حیدرآباد: نظام آباد میں گانجہ اسمگلنگ نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے، جہاں ایکسائز پولیس نے دو خواتین سمیت پانچ افراد کو 13 کلو گانجہ کے ساتھ گرفتار کیا ہے۔ یہ کارروائی کانتیشور بائی پاس کے قریب مخصوص اطلاع پر کی گئی۔
ایکسائز حکام کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ خواتین بھی اس نیٹ ورک میں ملوث پائی گئی ہیں، جبکہ اس سے قبل اس طرح کے معاملات میں صرف مرد شامل ہوتے تھے۔ گرفتار افراد ریاست کے اندر گانجہ فروخت کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔
سپلائی روٹ کی نشاندہی | Drug Smuggling
ضلع ایکسائز سپرنٹنڈنٹ ملاریڈی نے بتایا کہ ملزمان نے گانجہ مدھیہ پردیش کے سرپور علاقے سے حاصل کیا تھا۔ اس کے بعد اسے ناندیڑ کے راستے تلنگانہ منتقل کیا گیا۔
حکام کے مطابق پہلے اور دوسرے ملزم نے ایک نامعلوم شخص سے گانجہ خریدا اور فی کلو ₹9,000 ادا کیے۔ بعد ازاں یہ گروپ کنوٹ میں دیگر ساتھیوں سے ملا اور بس کے ذریعے نرمل پہنچا، جہاں سے نظام آباد کا رخ کیا گیا۔
فروخت کا منصوبہ بے نقاب | Drug Smuggling
ایکسائز حکام نے بتایا کہ پانچویں ملزم نے نظام آباد میں ایک تجارتی مقام کے قریب گانجہ خریدا اور اس کے عوض فی کلو ₹15,000 ادا کیے۔ تفتیش کے دوران اس نے اعتراف کیا کہ وہ اسے فی کلو ₹20,000 میں فروخت کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔
کارروائی کے دوران ایکسائز ٹیم نے 13 کلو گانجہ اور پانچ موبائل فون ضبط کیے۔ اس آپریشن میں ایکسائز سی آئی سواپنا، سب انسپکٹر ملیش، سنیتا اور دیگر عملے نے حصہ لیا۔
حکام نے بتایا کہ گرفتار افراد مختلف اضلاع اور علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایکسائز حکام نے واضح کیا کہ منشیات اسمگلنگ کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی اور کسی کو بھی قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔
