Read in English  
       
BC Quota Case

حیدرآباد: تلنگانہ حکومت نے 42 فیصد بی سی (پسماندہ طبقات) کے کوٹے پر ہائی کورٹ کی عبوری روک کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کی زیرِ قیادت حکومت نے اس مقصد کے لیے اسپیشل لیو پیٹیشن (SLP) دائر کی، تاکہ حکومت کے جی او نمبر 9 کے تحت اعلان کردہ ریزرویشن بحال ہو سکے۔

ہائی کورٹ نے حال ہی میں جی او نمبر 9، 41 اور 42 پر حکم امتناع جاری کیا تھا۔ ان احکامات کے تحت 2018 کے پنچایت راج ایکٹ میں ترمیم کرکے بی سی ریزرویشن 42 فیصد تک بڑھایا گیا تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ یہ اقدام سپریم کورٹ کے ’وکاس کشور راو گاولی‘ فیصلے کی خلاف ورزی ہے، جس میں مجموعی ریزرویشن کی حد 50 فیصد مقرر کی گئی تھی۔

حکومت کا مؤقف | BC Quota Case

حکم امتناع کے فوراً بعد، چیف منسٹر ریونت ریڈی نے وزراء اور قانونی ماہرین کے ساتھ مشاورت کی۔ طویل غور و خوض کے بعد، انہوں نے سپریم کورٹ میں اپیل کرنے کا فیصلہ کیا۔

ادھر، حکومت کے وکلاء کا کہنا ہے کہ آئین میں 50 فیصد کی کوئی واضح حد متعین نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق، کئی ریاستوں نے خصوصی حالات میں اس حد سے تجاوز کیا ہے۔

ریاست کے ایڈوکیٹ جنرل، سدھارشن ریڈی نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ حکم امتناع سے انتخابی عمل متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کا مقصد مقامی اداروں میں بی سیز کی منصفانہ نمائندگی یقینی بنانا ہے۔ درخواست میں دیگر ریاستوں کی مثالیں بھی پیش کی گئیں جہاں عدالتوں نے ایسے ہی کوٹے کو برقرار رکھا۔

آئینی حدود پر بحث | BC Quota Case

ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ 42 فیصد کوٹا آئینی اصولوں کے منافی نہیں ہے بلکہ یہ سماجی انصاف کے جذبے کے مطابق ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ ریزرویشن میں لچک ہونی چاہیے تاکہ کمزور طبقات کو برابری کے مواقع حاصل ہوں۔

سپریم کورٹ آئندہ چند دنوں میں اسپیشل لیو پیٹیشن کی سماعت کرے گی۔ اس فیصلے کے بعد تلنگانہ میں بلدی انتخابات کے شیڈول پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔