Read in English  
       
HMWSSB Pending Bills

حیدرآباد ۔ فورم فار گڈ گورننس نے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی پر زور دیا ہے کہ وہ سرکاری اور مرکزی محکموں سے پانی اور نکاسی کے تقریباً 2,000 کروڑ روپئے کے HMWSSB Pending Bills فوری وصول کریں۔

فورم کے صدر ایم۔ پدمانابھا ریڈی نے وزیر اعلیٰ کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے کہا کہ عام شہری وقت پر پانی اور ڈرینج کے بل ادا کرتے ہیں، لیکن کئی سرکاری محکمے برسوں سے اپنے واجبات کلیئر کرنے میں ناکام ہیں۔ حیدرآباد میٹروپولیٹن واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ کے اعداد و شمار کے مطابق ریاستی محکموں پر 1,764.18 کروڑ روپئے واجب الادا ہیں، جبکہ مرکزی اداروں اور پبلک سیکٹر کمپنیوں پر مزید 250.23 کروڑ روپئے باقی ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق مشن بھاگیرتھا پر سب سے زیادہ 1,011.30 کروڑ روپئے واجب الادا ہیں۔ پنچایت راج اور دیہی ترقیات محکمہ پر 377.29 کروڑ روپئے ، محکمہ صحت پر 109.69 کروڑ روپئے ، ہاؤسنگ ڈپارٹمنٹ پر 57.55 کروڑ روپئے اور محکمہ داخلہ پر 40.86 کروڑ روپئے کے بل باقی ہیں۔

عوام پر دوہرا بوجھ

فورم فار گڈ گورننس نے کہا کہ عوام پر دوہرا بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ جی ایچ ایم سی ایکٹ کے تحت شہری پہلے ہی پراپرٹی ٹیکس کے ذریعے پانی اور نکاسی کے اخراجات ادا کرتے ہیں۔ اس کے باوجود انہیں الگ سے واٹر بورڈ کو بھی ادائیگی کرنی پڑتی ہے۔ تنظیم نے کہا کہ لوگ وقت پر بل ادا کرنے پر مجبور ہیں، لیکن سرکاری دفاتر اور ملازمین کے مکانات بغیر ادائیگی کے سہولتوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

فورم نے متنبہ کیا کہ ان HMWSSB Pending Bills کی وجہ سے واٹر بورڈ کی مالی حالت ابتر ہو رہی ہے اور اس کا براہ راست اثر شہر بھر میں پانی اور نکاسی کی خدمات کے معیار پر پڑ سکتا ہے۔ صورتحال کو “تضاد اور ناانصافی” قرار دیتے ہوئے تنظیم نے وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام محکمہ جاتی سربراہان کو فوری طور پر بقایا جات کی ادائیگی کی ہدایت دیں۔