حیدرآباد: کالیشورم آبپاشی پراجکٹ میں مبینہ بدعنوانیوں کی تحقیقات کے سلسلے میں منگل کو اینٹی کرپشن بیورو نے سابق انجینئر اِن چیف مرلی دھر راو کے گھر پر چھاپہ مارا۔ ACB Raids کا یہ سلسلہ صبح سویرے بنجارہ ہلز میں ان کی رہائش سے شروع ہوا اور بعد میں حیدرآباد، کریم نگر اور ظہیرآباد میں اُن کے رشتہ داروں اور خاندان کے دیگر افراد کے مکانات تک پھیل گیا۔
ذرائع کے مطابق اینٹی کرپشن ٹیم کو مرلی دھر راو سے منسلک غیر محسوب اثاثوں کے اہم شواہد ملے ہیں۔ مرلی دھر راو کالیشورم پراجکٹ کے نفاذ میں ایک کلیدی شخصیت رہے ہیں، جس میں اب ذیلی ٹھیکوں کی الاٹمنٹ سے متعلق سنگین بے قاعدگیوں کی چھان بین جاری ہے۔
یہ چھاپے اُس وقت ہوئے ہیں جب حال ہی میں سابق ای این سی ہری رام اور ایگزیکٹیو انجینئر نونے سرِیدھر کو اینٹی کرپشن نے گرفتار کیا تھا، جن کے قبضے سے مبینہ طور پر سینکڑوں کروڑ کے غیر قانونی اثاثے برآمد ہوئے تھے۔
ذرائع کے مطابق کالیشورم کمیشن کی تحقیقات کے دوران مرلی دھر راو سے سوالات کیے گئے تھے، تاہم انہوں نے کئی معاملات پر لاعلمی یا یادداشت سے محرومی کا اظہار کیا۔ ان کا نام محکمہ ویجیلنس کی داخلی رپورٹ میں بھی شامل ہے۔
اینٹی کرپشن حکام کا کہنا ہے کہ چھاپے رات دیر تک جاری رہیں گے اور ممکن ہے کہ کارروائی مکمل ہونے کے بعد مرلی دھر راو کو حراست میں لیا جائے۔
