حیدرآباد: تلنگانہ حکومت نے بدھ کے روز سپریم کورٹ کو آگاہ کیا کہ فون ٹیپنگ کیس میں تفتیش کاروں کو اہم ڈیجیٹل شواہد ملے ہیں۔ سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت میں یہ معلومات حکومت کی جانب سے پیش کیں۔
ڈیجیٹل شواہد کی برآمدگی | Telangana Phone Tapping Case
تلنگانہ حکومت نے سابق انٹلیجنس چیف پربھاکر راؤ کی ضمانت منسوخ کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔ یہ معاملہ جسٹس بی وی ناگ رتنا اور جسٹس مہادیون پر مشتمل بینچ کے سامنے پیش ہوا۔
سماعت کے دوران تشار مہتا نے بتایا کہ فارنزک سائنس لیبارٹری (FSL) نے اپنی تجزیاتی رپورٹ مکمل کر کے جمع کرا دی ہے۔ ان کے مطابق، ماہرین نے مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے اہم ڈیٹا برآمد کیا ہے جو کیس کے ملزمان کے خلاف شواہد کو مزید مضبوط بناتا ہے۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ تفتیش میں ملنے والے یہ شواہد اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ حساس معلومات کے غیر قانونی حصول کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا۔
سپریم کورٹ نے سماعت 14 اکتوبر تک ملتوی کی | Telangana Phone Tapping Case
دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے اگلی سماعت 14 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔
پچھلی سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے شکایت کی تھی کہ پربھاکر راؤ تفتیش میں تعاون نہیں کر رہے۔ اس پر بینچ نے ہدایت دی کہ وہ فوری طور پر تحقیقات میں تعاون کریں تاکہ شواہد اکٹھا کرنے کا عمل متاثر نہ ہو۔
تلنگانہ فون ٹیپنگ کیس میں ڈیجیٹل شواہد کی برآمدگی کے بعد معاملہ مزید سنجیدہ رخ اختیار کر گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، سپریم کورٹ میں آئندہ سماعت کے دوران حکومت کے دلائل کیس کے مستقبل کا تعین کر سکتے ہیں۔
