حیدرآباد ۔ حیدرآباد ایئرپورٹ پولیس کے دو افسران کو اینٹی کرپشن بیورو نے رشوت لینے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔ تاہم حکام کے مطابق یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب دونوں اہلکار 2 لاکھ روپے وصول کر رہے تھے۔ مزید یہ کہ یہ رقم مبینہ طور پر 5 لاکھ روپے کی رشوت کے مطالبے کا حصہ تھی۔
پس منظر کے طور پر گرفتار افسران کی شناخت سب انسپکٹر یو کے سدیشور اور انسپکٹر سمپتی کنکیاہ کے طور پر ہوئی ہے۔ دریں اثنا دونوں راجیو گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پولیس چوکی میں تعینات تھے۔ لہٰذا اس کارروائی کو ایک اہم اینٹی کرپشن آپریشن قرار دیا جا رہا ہے۔
رشوت ستانی کی کارروائی اور گرفتاری کی تفصیلات | Corruption Case
اینٹی کرپشن بیورو کے مطابق دونوں افسران نے شکایت کنندہ سے چارج شیٹ داخل کرنے اور اس کے اہل خانہ کو مقدمے میں ملوث نہ کرنے کے لیے رشوت طلب کی تھی۔ اسی طرح انہوں نے اپنی سرکاری حیثیت کا غلط استعمال کرتے ہوئے ناجائز فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔ مزید برآں یہ معاملہ شمش آباد کے ایئرپورٹ پولیس اسٹیشن میں درج کیس سے متعلق بتایا گیا ہے۔
اینٹی کرپشن بیورو کی رنگا ریڈی یونٹ نے منصوبہ بندی کے تحت دونوں اہلکاروں کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا۔ مزید یہ کہ کارروائی کے دوران رشوت کی رقم برآمد کی گئی۔ تاہم اس کیس کو مزید تحقیقات کے لیے کھولا گیا ہے۔
تلاشی، برآمدگی اور قانونی کارروائی | Corruption Case
بعد ازاں انسپکٹر کے گھر پر تلاشی لی گئی جہاں سے 33.97 لاکھ روپے نقد رقم اور جائیداد سے متعلق دستاویزات برآمد ہوئیں۔ لہٰذا ان شواہد کو مزید جانچ کے لیے تحویل میں لے لیا گیا ہے۔ مزید برآں دونوں ملزمان کو عدالت میں پیش کر کے جوڈیشل ریمانڈ حاصل کیا جائے گا۔
آخر میں حکام نے کہا کہ کیس کی تحقیقات جاری ہیں جبکہ شکایت کنندہ کی شناخت سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ظاہر نہیں کی گئی۔ نتیجتاً اس واقعے نے پولیس نظام میں شفافیت اور احتساب کے حوالے سے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
