حیدرآباد: تلنگانہ حکومت اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ذات پر مبنی امتیاز کے خاتمے کے لیے جلد ہی روہت ویمولا ایکٹ نافذ کرے گی۔ نائب وزیر اعلیٰ ملّو بھٹی وکرمارکا نے ہفتہ کے روز اس عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت طلبہ کے حقوق اور سماجی انصاف کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے پرجا بھون میں جسٹس فار روہت ویمولا کیمپین کمیٹی کے اراکین سے ملاقات کی اور یقین دلایا کہ اس معاملے میں تیزی سے پیش رفت کی جائے گی۔ نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی سے بات چیت کے بعد ایکٹ کے مسودے کو حتمی شکل دے کر قانون سازی کے عمل کا آغاز کریں گے۔
کانگریس قیادت کی حمایت | Rohith Act
ملّو بھٹی وکرمارکا نے بتایا کہ کانگریس رہنما راہل گاندھی نے بھی وزیر اعلیٰ کو خط لکھ کر ریاست میں روہت ویمولا ایکٹ متعارف کرانے پر زور دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام حکومت کے سماجی انصاف اور طلبہ دوست پالیسیوں کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
کمیٹی کے اراکین نے حکومت کو ایکٹ کا ایک مسودہ بھی پیش کیا، جو کرناٹک میں تیار کیے گئے اسی نوعیت کے قانون پر مبنی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تلنگانہ حکومت کرناٹک ماڈل کو بنیاد بنا کر اپنا قانون تیار کرے۔
دوبارہ تحقیقات اور مقدمات کی واپسی کا مطالبہ | Rohith Act
وفد نے روہت ویمولا کی موت کی شفاف انداز میں دوبارہ تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے واقعے کے بعد 50 طلبہ اور دو اساتذہ کے خلاف درج غیر ضمانتی مقدمات واپس لینے کی اپیل کی۔
نائب وزیر اعلیٰ نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ ان کے تمام مطالبات وزیر اعلیٰ کے سامنے رکھے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد ایسے قوانین متعارف کرانا ہے جو تعلیمی اداروں میں مساوات، وقار اور انصاف کو یقینی بنائیں۔
