Read in English  
       
Foreign Detention Centre

حیدرآباد ۔ حیدرآباد سٹی پولیس نے تلنگانہ حکومت کی ہدایات کے بعد ضلع سنگاریڈی کے جوگی پیٹ میں ایک خصوصی حراستی مرکز (ڈیٹنشن سینٹر) کو فعال کر دیا ہے جہاں غیر ملکی شہریوں کو رکھا جا رہا ہے۔ یہ اقدام امیگریشن اور مجرمانہ خلاف ورزیوں میں ملوث افراد کی نگرانی کو مؤثر بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ مزید برآں، اس مرکز کے قیام سے انتظامی عمل کو منظم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

پولیس نے اس سہولت کو بشیر باغ سے منتقل کر کے ایک مخصوص ٹرانزٹ اور حراستی یونٹ کے طور پر ترتیب دیا ہے۔ حکام اس مرکز کو ان افراد کے لیے استعمال کر رہے ہیں جو غیر قانونی ہجرت، ویزا مدت سے تجاوز، انسانی اسمگلنگ اور منشیات سے متعلق مقدمات میں ملوث پائے گئے ہیں۔ تاہم، اس منتقلی کا مقصد ایک ہی جگہ پر تمام کارروائیوں کو مرکوز کرنا ہے۔

جوگی پیٹ مرکز کی توسیع اور گنجائش میں اضافہ | Foreign Detention Centre

2018 سے اب تک حکام نے اس نظام کے تحت 196 غیر ملکی قیدیوں کو سنبھالا ہے۔ ان میں سے 184 افراد کو قانونی تقاضے مکمل ہونے کے بعد ملک بدر کیا جا چکا ہے۔ اس وقت مرکز میں 12 افراد زیر حراست ہیں جن میں 9 مرد اور 3 خواتین شامل ہیں، اور ان کا تعلق سوڈان، نائجیریا، یوگانڈا اور کیمرون سے ہے، جو ملک بدری کے منتظر ہیں۔

ملک بدری کا عمل اور حکومتی حکمت عملی | Foreign Detention Centre

حکام ملک بدری کے عمل کے لیے مرکزی ایجنسیوں کے ساتھ قریبی تال میل رکھتے ہیں۔ وہ وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ سے ضروری منظوری حاصل کرنے کے بعد ہی افراد کو منتقل کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ، منتقلی کے دوران ٹیمیں ہوائی راستے یا بین الاقوامی سرحدی مقامات کے ذریعے سکیورٹی کے ساتھ افراد کو روانہ کرتی ہیں۔

دریں اثنا، سینئر پولیس افسران نے جوگی پیٹ مرکز کے قیام کی نگرانی کی اور ضروری انفراسٹرکچر کو یقینی بنایا۔ اس اقدام کا مقصد قانون نافذ کرنے کے عمل کو مزید مضبوط بنانا اور حراستی طریقہ کار کو بہتر بنانا ہے۔ علاوہ ازیں، حکومت نے چرلاپلی جیل میں ایک مستقل ٹرانزٹ ہوم کی منظوری بھی دی ہے تاکہ طویل مدتی انتظام کو مؤثر بنایا جا سکے۔

آخرکار، اس نئی حکمت عملی سے نہ صرف غیر ملکی شہریوں کے معاملات کو قانونی دائرے میں بہتر طریقے سے سنبھالا جا سکے گا بلکہ سکیورٹی اور شفافیت کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔ اسی لیے حکومت نے مرحلہ وار اصلاحات کے ذریعے ایک مربوط نظام قائم کرنے پر زور دیا ہے۔