حیدرآباد: اسٹیشن گھن پور کی سیاست میں کشیدگی بڑھ گئی ہے جہاں کانگریس کے رکن اسمبلی کڈیم سری ہری اور سابق ڈپٹی چیف منسٹر و بی آر ایس لیڈر تاٹیکونڈا راجیاہ کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ ہوا۔ بی آر ایس قائدین نے مطالبہ کیا کہ سری ہری فوری طور پر اسمبلی رکنیت سے استعفیٰ دیں کیونکہ انہوں نے پارٹی چھوڑ کر کانگریس میں شمولیت اختیار کی ہے۔ یہ صورتحال Station Ghanpur Tensions کے طور پر سامنے آئی ہے۔
جمعہ کے دن ورنگل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کڈیم سری ہری نے کہا کہ انہوں نے کانگریس میں اس لیے شمولیت اختیار کی تاکہ اسٹیشن گھن پور کی ترقی ممکن ہو اور وہ حکومت کے ساتھ مل کر اپنے حلقہ کے عوام کے مسائل حل کر سکیں۔
ترقی کے وعدے اور خدشات
انہوں نے کہا کہ حلقہ میں آبی ذخائر تو موجود ہیں مگر نہروں کی تعمیر نامکمل ہے۔ گاد اور درختوں کی رکاوٹ سے پانی کی روانی متاثر ہورہی ہے جس کی وجہ سے آخری سِروں تک آبپاشی ممکن نہیں ہو پا رہی۔ اس مسئلے کو انہوں نے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کے سامنے پیش کیا اور نہروں کی صفائی و سی سی لائننگ کا مطالبہ کیا۔
کڈیم سری ہری نے یاد دلایا کہ انہوں نے 2023 کے انتخابات بی آر ایس کے امیدوار کے طور پر جیتے تھے اور عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ترقی لائیں گے۔ لیکن بی آر ایس کے اقتدار سے باہر ہونے کے بعد انہیں اندیشہ ہوا کہ ان کے حلقہ کو انصاف نہیں ملے گا۔ ان کے بقول، کانگریس کے ساتھ کام کرنا ہی واحد راستہ ہے جس سے وعدہ کی گئی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔ بہرحال، کڈیم سری ہری کے بیانات کے بعد Station Ghanpur Tensions دیکھی جارہی ہے۔
