Read in English  
       
Mahesh Goud Statement

حیدرآباد ۔ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر مہیش گوڑ نے دعویٰ کیا ہے کہ بی آر ایس صدر کلواکنٹلہ کویتا کے خوف نے سابق وزیر اعلیٰ کے چندرشیکھر راو کو دوبارہ فعال سیاست میں واپس آنے پر مجبور کیا۔ ان کے بیان کے بعد ریاستی سیاست میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ تاہم، انہوں نے اس پیش رفت کو سیاسی حکمت عملی سے بھی جوڑا۔

مہیش گوڑ کے مطابق، کویتا کی سیاسی سرگرمیوں نے کے چندرشیکھر راو کو عوامی زندگی میں دوبارہ سرگرم ہونے پر مجبور کیا۔ مزید برآں، انہوں نے طنزیہ انداز میں کویتا کا شکریہ ادا کیا کہ ان کی وجہ سے کے چندرشیکھر راو دوبارہ عوام کے سامنے آئے۔ ان کا الزام تھا کہ کے سی آر محض اپنی سیاسی اہمیت برقرار رکھنے کے لیے منظر عام پر آ رہے ہیں۔

حیدرآباد میں ہائیڈرا کارروائیوں کا دفاع | Mahesh Goud Statement

کانگریس رہنما نے حیدرآباد میں جھیلوں پر قبضوں کے خلاف ہائیڈرا کی کارروائیوں پر کے چندرشیکھر راو کے اعتراضات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی آر ایس کے کئی رہنماؤں نے شہر کے اطراف جھیلوں پر قبضے کیے ہیں، جس کی وجہ سے پارٹی میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔ لہٰذا، انہوں نے کہا کہ ہائیڈرا کی کارروائیاں ضروری ہیں۔

مزید یہ کہ، مہیش گوڑ نے سوال اٹھایا کہ جھیلوں سے تجاوزات ہٹانے کی کوششوں پر اعتراض کیوں کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے سابق وزیر اعلیٰ کو مشورہ دیا کہ وہ تنقید سے پہلے ہائیڈرا کے ضوابط کا مطالعہ کریں تاکہ حقیقت واضح ہو سکے۔

حکومت کی ترجیحات اور فیصلے | Mahesh Goud Statement

دریں اثنا، انہوں نے کانگریس حکومت کی کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی اپنے انتخابی وعدوں پر عمل کر رہی ہے۔ مزید برآں، انہوں نے اعلان کیا کہ ریاستی حکومت جلد ہی نامزد عہدوں کو پُر کرے گی اور اس سلسلے میں مشق مکمل کر لی گئی ہے۔

اسی دوران، مہیش گوڑ نے واضح کیا کہ کابینہ میں توسیع سے متعلق حتمی فیصلہ صرف وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی ہی کریں گے۔ لہٰذا، اس معاملے میں کسی اور کی رائے حتمی نہیں ہوگی۔

آخر میں، یہ بیان تلنگانہ کی سیاست میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سیاسی صف بندیوں کی عکاسی کرتا ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید واضح ہو سکتے ہیں۔