Employee Relief
حیدرآباد ۔ تلنگانہ حکومت نے ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات کی ادائیگی کے لیے پہلے مرحلے میں 2,000 کروڑ روپے جاری کرتے ہوئے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ حکومت نے 100 دن کے اندر مجموعی طور پر 6,000 کروڑ روپے کے زیر التوا واجبات ادا کرنے کا وعدہ کیا تھا اور اس سلسلے میں عملدرآمد کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
وزیر خزانہ اور نائب وزیر اعلیٰ بھٹی وکرمارکا کی ہدایت پر فنڈز جاری کیے گئے۔ بعد ازاں محکمہ خزانہ کے اسپیشل چیف سیکریٹری سندیپ کمار سلطانیہ نے جمعہ کے روز اس سلسلے میں باضابطہ احکامات جاری کیے۔
اس سے قبل وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی اور بھٹی وکرمارکا نے ملازمین کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کو یقین دہانی کرائی تھی کہ حکومت 100 دن کے اندر 6,000 کروڑ روپے کے تمام زیر التوا واجبات ادا کرے گی۔
پہلے مرحلے میں اہم واجبات کی ادائیگی | Employee Relief
حکام کے مطابق پہلے مرحلے میں ریٹائرڈ ملازمین سے متعلق کئی اہم مالی ذمہ داریوں کو مکمل طور پر نمٹا دیا گیا ہے۔ حکومت نے ریٹائرڈ ملازمین کے جنرل پروویڈنٹ فنڈ (جی پی ایف) کے تمام بقایا جات ادا کر دیے ہیں۔
مزید برآں، مئی 2025 تک زیر التوا تمام کمیوٹیشن واجبات بھی کلیئر کر دیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پیشگی منصوبہ بندی اور واضح مالی حکمت عملی کی بدولت یہ ادائیگیاں مقررہ وقت میں ممکن ہو سکیں۔
بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ حکومت تمام زیر التوا ملازم واجبات کی ادائیگی کے لیے پرعزم ہے۔ ان کے مطابق پہلے مرحلے کے فنڈز نے ریاست بھر کے ریٹائرڈ ملازمین کی دیرینہ تشویش کو کافی حد تک دور کیا ہے۔
باقی 4,000 کروڑ روپے بھی جلد جاری ہوں گے | Employee Relief
نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باقی ماندہ 4,000 کروڑ روپے بھی حکومت اپنے طے شدہ شیڈول کے مطابق جاری کرے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ وعدے کے مطابق تمام ادائیگیاں مکمل کی جائیں گی۔
دریں اثنا، حکام نے بتایا کہ مختلف محکمے باقی رقم جلد از جلد ملازمین کے کھاتوں میں منتقل کرنے کے لیے تیزی سے کام کر رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں زیر التوا مالی مطالبات کو مکمل طور پر حل کرنے میں مدد ملے گی۔
مزید برآں، ملازمین کی یونینوں اور ریٹائرڈ ملازمین نے حکومت کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ انہوں نے طویل عرصے سے زیر التوا مطالبات پر عملدرآمد کے لیے حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس اقدام کو مثبت پیش رفت قرار دیا۔
حکومت نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ملازمین کی فلاح و بہبود اس کی ترجیحات میں شامل ہے اور حاضر سروس و ریٹائرڈ ملازمین سے کیے گئے وعدوں کی تکمیل کے لیے اقدامات جاری رہیں گے۔
