Read in English  
       
Fuel Burden

حیدرآباد ۔ ملک بھر میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے صرف 1 دن بعد سی این جی نرخوں میں بھی دوبارہ اضافہ کردیا گیا ہے، جس کے باعث عام مسافروں اور ٹرانسپورٹ شعبہ پر مزید مالی دباؤ بڑھ گیا ہے۔ حکام نے دہلی میں کمپریسڈ نیچرل گیس کی قیمت میں 2 روپے فی کلو اضافہ کیا ہے۔

تازہ اضافے کے بعد قومی دارالحکومت میں سی این جی کی نئی قیمت 83.09 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔ اس سے قبل 15 مئی کو 2 روپے، 18 مئی کو 1 روپیہ اور 23 مئی کو مزید 1 روپیہ بڑھایا گیا تھا۔

یوں صرف 11 دن کے اندر سی این جی کی قیمتوں میں مجموعی طور پر 6 روپے فی کلو اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مزید برآں، مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں نے ٹرانسپورٹ شعبہ میں تشویش پیدا کردی ہے کیونکہ اس کے براہ راست اثرات عوامی سفر پر پڑنے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔

ٹرانسپورٹ اخراجات میں اضافہ | Fuel Burden

ماہرین کے مطابق سی این جی قیمتوں میں بار بار اضافے سے آٹو رکشا اور کیب ڈرائیوروں کے آپریٹنگ اخراجات نمایاں طور پر بڑھ جائیں گے۔ اسی لیے ٹرانسپورٹ آپریٹرز کی جانب سے کرایوں میں اضافے کا امکان بھی ظاہر کیا جارہا ہے۔

اس صورتحال کا براہ راست اثر روزانہ سفر کرنے والے ملازمین، طلبہ اور متوسط طبقے کے خاندانوں پر پڑسکتا ہے جو عوامی ٹرانسپورٹ خدمات پر انحصار کرتے ہیں۔ اس درمیان، شہروں میں بڑھتے ہوئے سفری اخراجات شہری بجٹ کو مزید متاثر کرسکتے ہیں۔

مارکیٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹ لاگت بڑھنے سے ضروری اشیائے خوردونوش اور دیگر سامان کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔ اس طرح ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ صرف سفر تک محدود نہیں رہے گا بلکہ گھریلو اخراجات پر بھی اثر ڈالے گا۔

عوامی مشکلات میں اضافہ | Fuel Burden

دوسری جانب پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے پہلے ہی ملک بھر میں گاڑی مالکان پر مالی بوجھ بڑھا دیا ہے۔ اب سی این جی نرخوں میں اضافے کے بعد ذاتی اور عوامی ٹرانسپورٹ دونوں شعبوں میں اخراجات بڑھنے لگے ہیں۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ایندھن کی قیمتوں میں اسی طرح مسلسل اضافہ جاری رہا تو مہنگائی مزید شدت اختیار کرسکتی ہے۔ تاہم حکومت کی جانب سے فوری ریلیف کے امکانات ابھی واضح نہیں ہیں۔

عوامی حلقوں میں اس معاملے پر تشویش بڑھتی جارہی ہے کیونکہ روزمرہ زندگی میں سفر اور بنیادی ضروریات دونوں مہنگی ہوتی جارہی ہیں۔ اس کے علاوہ، آنے والے دنوں میں ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔