Read in English  
       
Workplace Safety

حیدرآباد ۔ تلنگانہ کے ڈی جی پی شیودھر ریڈی نے کام کی جگہوں پر تحفظ سے متعلق خدشات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس کا نظام مضبوط ہے اور شہریوں کے وقار اور سلامتی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاستی پولیس ہر شہری کے لیے محفوظ اور جامع ماحول فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ مزید برآں انہوں نے حیدرآباد کی متنوع شناخت اور مختلف ریاستوں سے آنے والے پیشہ ور افراد کے کردار کو بھی سراہا۔

پس منظر کے طور پر یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب مرکزی وزیر بنڈی سنجے نے کام کی جگہوں پر تحفظ سے متعلق خدشات کا اظہار کیا تھا۔ تاہم ڈی جی پی نے کہا کہ پولیس اور مختلف اداروں کے درمیان مضبوط تعاون قائم ہے۔ چنانچہ سیکیورٹی اقدامات کو مزید مؤثر بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سائبر آباد سیکیورٹی کونسل جیسے اقدامات کے ذریعے پولیس اور صنعتوں کے درمیان ہم آہنگی بہتر ہوئی ہے۔ اسی دوران تنظیموں اور ایچ آر ٹیموں کے ساتھ قریبی رابطے کے ذریعے احتساب کے نظام کو مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ لہٰذا کام کی جگہوں پر نگرانی کا عمل مزید مؤثر ہو گیا ہے۔

حفاظتی اقدامات اور پولیس خدمات | Workplace Safety

ڈی جی پی کے مطابق کام کرنے والی خواتین کے ہاسٹلز اور پی جی رہائش گاہوں کے حفاظتی آڈٹ باقاعدگی سے کیے جا رہے ہیں۔ مزید یہ کہ شیشٹل اور مارگ درشک جیسی خدمات خواتین پیشہ ور افراد کو سہولت فراہم کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ شی ٹیمز اور بھروسہ مراکز شکایات پر فوری کارروائی کو یقینی بناتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہر شکایت کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے اور فوری ردعمل دیا جاتا ہے۔ نتیجتاً پولیس نظام عوامی مسائل کے حل میں مؤثر اور منصفانہ کردار ادا کر رہا ہے۔ دریں اثنا شہریوں کا اعتماد برقرار رکھنے پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

تعاون اور مستقبل کی حکمت عملی | Workplace Safety

ڈی جی پی نے کہا کہ پولیس شہریوں، کمیونٹیز اور صنعتوں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گی۔ مزید برآں آئینی اقدار کے تحفظ اور ہر شعبے میں سلامتی کو یقینی بنانے کا عزم بھی دہرایا گیا۔ لہٰذا مستقبل میں مزید جامع اقدامات متوقع ہیں۔

دوسری جانب مرکزی وزیر بنڈی سنجے نے ایک واقعے کے تناظر میں کام کی جگہوں پر تحفظ کے حوالے سے تشویش ظاہر کی تھی۔ انہوں نے آئی ٹی کمپنیوں اور ایچ آر ٹیموں کے ساتھ اجلاس منعقد کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ کام کی جگہیں ہر قسم کے دباؤ، ہراسانی اور استحصال سے پاک ہونی چاہئیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا پر کئی ملازمین نے اپنے تجربات شیئر کیے ہیں، جسے نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ چنانچہ حکام اور کمپنیوں کو چاہیے کہ وہ بروقت اقدامات کریں اور ملازمین کی سلامتی کو اولین ترجیح دیں۔

آخر میں ڈی جی پی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پولیس ہر ممکن اقدام کے ذریعے محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ اس طرح نہ صرف شہریوں کا اعتماد بحال رہے گا بلکہ ایک ذمہ دار معاشرہ بھی تشکیل پائے گا۔