حیدرآباد: ورنگل میں ایک خاتون کانسٹیبل نے مبینہ طور پر مسلسل ہراسانی سے تنگ آ کر خودکشی کر لی۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ ورنگل پولیس کمشنریٹ کے حدود میں پیش آیا، جس نے محکمہ پولیس اور عوامی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
متوفیہ انیتا ورنگل پولیس کمشنریٹ کے آرمڈ ریزرو ونگ میں خدمات انجام دے رہی تھیں۔ ان کا تعلق ورنگل ضلع کے پروتھاگیری منڈل کے سیتیا تانڈہ سے بتایا گیا ہے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق انیتا گزشتہ کچھ عرصے سے شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھیں۔
پولیس شکایت میں کہا گیا ہے کہ محبوب آباد ضلع کے تورر منڈل کے کومنّا پلی تانڈہ سے تعلق رکھنے والا راجیندر، جو انیتا کا دور کا رشتہ دار تھا، مبینہ طور پر گزشتہ چار سال سے انہیں ہراساں کر رہا تھا۔ الزام ہے کہ اس نے شادی کا وعدہ کیا اور ڈیوٹی کے دوران بار بار ویڈیو کال کرنے پر زور دیا، جبکہ ان کے دیگر افراد سے بات کرنے پر بھی اعتراض کرتا تھا۔
مبینہ دباؤ اور ذہنی اذیت | Police Case
انیتا کے والدین نے راجیندر کے رویے کے باعث شادی کی مخالفت کی تھی۔ بعد ازاں راجیندر کو شبہ ہوا کہ انیتا اپنے دوست جبار لال سے شادی کرنا چاہتی ہیں۔ پولیس کے مطابق راجیندر نے جبار لال سے رابطہ کر کے انیتا کے بارے میں غلط معلومات فراہم کیں۔
اس کے بعد جبار لال نے مبینہ طور پر انیتا کو ہراساں کرنا شروع کر دیا اور رقم کا مطالبہ کیا، یہ کہتے ہوئے کہ وہ شادی اسی صورت میں کرے گا جب اسے پیسے دیے جائیں گے۔ ان حالات میں انیتا شدید ذہنی دباؤ میں آ گئیں۔
دو افراد کے خلاف مقدمہ درج | Police Case
پولیس کے مطابق خودکشی سے قبل انیتا نے راجیندر کو فون کر کے کہا کہ دونوں افراد نے اس کی زندگی برباد کر دی ہے۔ الزام ہے کہ راجیندر نے اس بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا، جس کے بعد انیتا نے زہریلی دوا پی لی۔
پولیس نے راجیندر اور جبار لال کے خلاف ہراسانی کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل جانچ جاری ہے تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
