حیدرآباد:مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (مانو) کے شعبہ اسلامک اسٹڈیز میں بدھ کے روز دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس “امن و ہم آہنگی: مذہبی تناظر میں” کا آغاز ہوا۔ افتتاحی اجلاس میں ملک و بیرونِ ملک سے تعلق رکھنے والے ممتاز علما، ماہرینِ مذہب و ثقافت، اور مختلف جامعات کے اسکالرز نے شرکت کی۔
پروفیسر رام پنیانی کا کلیدی خطاب | Peace and Harmony
افتتاحی اجلاس میں معروف دانشور اور مورخ پروفیسر رام پنیانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’’حضرت محمد ﷺ کا پورا جیون ہی محبت اور انسانی بھائی چارے کا پیغام ہے۔‘‘
انہوں نے زور دیا کہ ماضی کے حکمرانوں کے اعمال کی بنیاد پر آج کے لوگوں کے خلاف نفرت پھیلانا درست نہیں۔
پروفیسر پنیانی نے مزید کہا کہ اورنگ زیب نے پچاس سے زیادہ مندروں کو عطیات دیے تھے، جو باہمی احترام اور ہم آہنگی کی مثال ہے۔
مسلکی اتحاد اور علمی مکالمے کی ضرورت | Peace and Harmony
صدرِ اجلاس پروفیسر سید عین الحسن، وائس چانسلر مانو نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ ہمیں حقیقت تک پہنچنے کی علمی کوشش کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ مسلکی و مذہبی اختلافات سے اوپر اٹھ کر فکری اتحاد کو فروغ دینے کی ضرورت ہے تاکہ مکالمہ اور تحقیق تعصب نہیں بلکہ علم کی بنیاد پر ہو۔
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے افتتاحی خطاب میں کہا کہ اسلام ہر انسان کی عزت و احترام کا قائل ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ ’’کافر‘‘ لفظ گالی نہیں بلکہ قرآن نے اسے خود کفار مکہ کے بیان کے طور پر نقل کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندو اور مسلمان مشترکہ اخلاقی اقدار کی بنیاد پر بہتر تعلقات قائم کر سکتے ہیں، یہی وقت کا سب سے بڑا تقاضا ہے۔
علمی و تحقیقی سرگرمیاں اور کتابوں کا اجرا | Peace and Harmony
شعبہ اسلامک اسٹڈیز کے صدر پروفیسر محمد حبیب نے افتتاحی اجلاس میں مہمانوں کا استقبال کیا اور کانفرنس کے مقاصد بیان کیے۔
انہوں نے کہا کہ آج کے عالمی منظرنامے میں مذہبی رواداری، مکالمہ اور سماجی ہم آہنگی کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔
اس موقع پر ڈاکٹر پیکم ٹی سمویل، ڈائریکٹر ہنری مارٹن انسٹی ٹیوٹ نے کہا کہ ایسے علمی اجتماعات معاشرتی ہم آہنگی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اجلاس میں پروفیسر محمد حبیب اور ان کے معاونین کی تصنیف “طریقہ تحقیق اور اشاعتی اخلاقیات” اور پچھلے سیمینار کے مقالات پر مشتمل کتاب “ہندوستان میں بین المذاہب مکالمے کے زاویے” کا رسمِ اجرا بھی انجام پایا۔
اختتامی نشست اور شرکائے سیمینار | Peace and Harmony
کانفرنس میں جامعہ ملیہ اسلامیہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، جامعہ ہمدرد، عثمانیہ یونیورسٹی، ایفلو، کشمیر یونیورسٹی، عالیہ یونیورسٹی، اور دیگر جامعات کے اسکالرز اپنے تحقیقی مقالات پیش کریں گے۔
اختتامی اجلاس 9 اکتوبر کو پروفیسر اشتیاق احمد، رجسٹرار مانو کی صدارت میں منعقد ہوگا، جس میں پروفیسر پی ایچ محمد اور پروفیسر کے ونود جے رتھ مہمانِ خصوصی ہوں گے۔
پروفیسر رام پنیانی اور دیگر مقررین نے کہا کہ مذہبی ہم آہنگی اور انسانیت پر مبنی مکالمہ ہی دنیا میں پائیدار امن کی ضمانت ہے۔
کانفرنس کے مباحث نے اس پیغام کو نمایاں کیا کہ سچائی، احترام، اور محبت کے ذریعے ہی معاشرہ ترقی کر سکتا ہے۔
