Read in English  
       
Institutional Bias

حیدرآباد: تلنگانہ حکومت کے مشیر محمد علی شبیر نے منگل کے روز شری ماتا ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسی لینس کی ایم بی بی ایس منظوری منسوخ کیے جانے پر مرکزی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے مسلم طلبہ کے خلاف ’’ادارہ جاتی امتیاز‘‘ قرار دیا۔

کاماریڈی میں ختمِ نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیشنل میڈیکل کمیشن کا 7 جنوری کا حکم کسی انفراسٹرکچر کی خامی کی بنیاد پر نہیں بلکہ طلبہ کی مذہبی شناخت کی وجہ سے دیا گیا۔ ان کے مطابق منتخب 50 طلبہ میں سے 42 کا تعلق مسلم طبقے سے تھا، جو بعض حلقوں کو قبول نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ جب میرٹ ان کے بیانیے کے خلاف گیا تو تکنیکی بہانوں کے ذریعے دروازہ بند کر دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ معیار کے نام پر نہیں بلکہ تعصب کی بنیاد پر کیا گیا۔

میرٹ کے خلاف دباؤ کی سیاست | Institutional Bias

محمد علی شبیر نے بتایا کہ مذکورہ میڈیکل ادارہ شری ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی سے منسلک ہے اور اس میں داخلے نیٹ کے ذریعے جے کے بی او پی ای ای کی کونسلنگ سے ہوئے، جس میں تمام قواعد و ضوابط کی پابندی کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ داخلوں کے بعد دائیں بازو کی بعض تنظیموں نے احتجاج کیا اور اعتراض اٹھایا کہ ہندو مذہبی ادارے کے فنڈ سے چلنے والے کالج میں غیر ہندو طلبہ کیوں ہیں۔ ان کے مطابق کسی بھی سرکاری طور پر تسلیم شدہ ادارے میں مذہبی بنیاد پر داخلوں کا مطالبہ آئین کی صریح خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ احتجاج کے فوراً بعد معائنہ کر کے انفراسٹرکچر کا بہانہ بنایا گیا، حالانکہ اصل مقصد میرٹ لسٹ کو غیر مؤثر بنانا تھا۔

Institutional Bias

مسلمانوں کے خلاف منظم اخراج کا خدشہ | Institutional Bias

مشیرِ حکومت نے اس واقعے کو مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے ادارہ جاتی اخراج کا حصہ قرار دیا۔ انہوں نے این آر سی، سی اے اے اور امید پورٹل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ سب ایک ایسی زنجیر ہے جس کے ذریعے اقلیتوں کو نگرانی اور دباؤ میں لایا جا رہا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اقلیتی املاک کی رجسٹریشن کے نام پر مستقبل میں وقف جائیدادوں اور مذہبی مقامات پر قدغن لگائی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق آج ڈیٹا جمع کیا جا رہا ہے تاکہ کل کنٹرول کیا جا سکے۔

سماجی منصوبہ بندی اور بیداری کی اپیل | Institutional Bias

محمد علی شبیر نے مسلم برادری سے اپیل کی کہ وہ تعلیم اور مذہبی اداروں میں سرمایہ کاری بڑھائے، خاص طور پر دیہی علاقوں میں۔ انہوں نے تحفظِ ختمِ نبوت ٹرسٹ کی خدمات کو سراہا جو ائمہ کی تقرری اور دینی مدارس کے قیام میں سرگرم ہے۔

انہوں نے شہری علاقوں میں مساجد کے قریب تدفین کی سہولیات قائم کرنے کی بھی تجویز دی اور کہا کہ وبا کے دوران پیش آنے والی مشکلات سے سبق سیکھنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر شعبے میں تربیت یافتہ افراد کو ذمہ داریاں نبھانی چاہئیں۔

سیاسی ماحول پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہروں کے نام بدلنے جیسے اقدامات بے روزگاری یا تعلیمی مسائل حل نہیں کرتے بلکہ صرف اشتعال پیدا کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تلنگانہ اور کرناٹک میں کانگریس حکومتوں نے آئینی حقوق کا احترام کیا، جس کی وجہ سے اقلیتیں آج بھی اپنے مذہبی اور سماجی حقوق استعمال کر پا رہی ہیں۔

کانفرنس کے اختتام پر مذہبی قائدین نے اتحاد اور خدمت کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس سے قبل محمد علی شبیر اور مولانا شاہ جمال الرحمٰن نے قبرستان سے متصل نئی مسجد عباس کا افتتاح کیا۔ یہ موقع تحفظِ ختمِ نبوت ایجوکیشنل اینڈ چیریٹیبل ٹرسٹ کے 26ویں سالانہ اجتماع کا بھی تھا۔