Read in English  
       
Student Fee Crisis

حیدرآباد ۔ تلنگانہ میں طلبہ تنظیموں نے جی او ایم ایس نمبر 7 کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے سے تقریباً 1400000 طلبہ کی فیس ری ایمبرسمنٹ پر غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس پالیسی سے غریب طلبہ کی تعلیم متاثر ہو سکتی ہے۔ مزید برآں اس معاملے نے ریاست میں تعلیمی بحران کو جنم دیا ہے۔

یہ احتجاج گن پارک میں اسٹوڈنٹ جے اے سی کے چیئرمین ویمولا رام کرشنا کی قیادت میں منعقد ہوا۔ اس موقع پر سابق وزیر سرینواس گوڑ نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ اسی دوران مظاہرین نے مشعل ریلی نکالی اور حکومت کے فیصلے کے خلاف نعرے لگائے۔

طلبہ رہنماؤں نے کہا کہ جی او ایم ایس نمبر 7 میں وضاحت کی کمی کے باعث طلبہ کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید یہ کہ حکومت نے یہ واضح نہیں کیا کہ بقایا رقم کب طلبہ کے کھاتوں میں جمع کی جائے گی۔ لہٰذا انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب کالج پیشگی فیس مانگ رہے ہیں تو طلبہ اپنی تعلیم کیسے جاری رکھیں گے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ کئی تعلیمی ادارے داخلے سے قبل ہی فیس کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اسی لیے بعض کالجز بغیر پیشگی ادائیگی کے داخلہ دینے سے انکار کر رہے ہیں۔ مزید برآں یہ صورتحال طلبہ کے لیے مزید پیچیدگیاں پیدا کر رہی ہے۔

فیس بوجھ اور تعلیمی مشکلات | Student Fee Crisis

مظاہرین نے کہا کہ یہ پالیسی غریب طلبہ کو قرض لینے پر مجبور کرے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مالی دباؤ کے باعث کئی طلبہ اعلیٰ تعلیم ترک کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا اس معاملے کو فوری حل کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ فیس ری ایمبرسمنٹ کے بقایا جات 10000 کروڑ روپے سے تجاوز کر چکے ہیں۔ مزید یہ کہ بعض کالجز بقایا فیس کی وجہ سے طلبہ کے سرٹیفکیٹس روک رہے ہیں جس سے طلبہ ملازمتوں اور اعلیٰ تعلیم کے مواقع سے محروم ہو رہے ہیں۔

اسٹوڈنٹ جے اے سی نے مطالبہ کیا کہ بقایا رقم فوری طور پر جاری کی جائے اور فیس ریگولیشن قانون نافذ کیا جائے۔ مزید برآں تنظیم نے حکومت سے جی او ایم ایس نمبر 7 میں ترمیم اور مرحلہ وار ادائیگی کا شیڈول جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔

مطالبات اور حکومتی اقدامات کی ضرورت | Student Fee Crisis

طلبہ رہنماؤں نے تجویز پیش کی کہ تعلیمی سال کے آغاز پر 25 فیصد رقم جاری کی جائے، درمیان میں 50 فیصد اور اختتام پر باقی 25 فیصد گرین چینل سسٹم کے ذریعے ادا کی جائے۔ لہٰذا اس ماڈل کو طلبہ کے لیے مؤثر حل قرار دیا گیا۔

اس احتجاج میں بی سی جے اے سی کے ورکنگ چیئرمین کوجا کرشنا، نرسمہا نائک، سائی ثانیہ، پرتیوشا، وینیلا، پراجالا انوشا، شروتی اور ایشوریہ سمیت متعدد طلبہ رہنماؤں نے شرکت کی۔ مزید یہ کہ اس موقع پر حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا گیا۔

آخر میں یہ واضح ہوتا ہے کہ اگر حکومت نے فوری اقدامات نہ کیے تو تعلیمی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ لہٰذا طلبہ تنظیموں نے اپنے مطالبات پر عمل درآمد کے لیے دباؤ بڑھانے کا عندیہ دیا ہے۔