Read in English  
       
Madira Flood

حیدرآباد: تلنگانہ کے نائب وزیر اعلیٰ ملو بھٹی وکرامارکا نے جمعرات کو اعلان کیا کہ مدھیرا بلدیہ کو ایک ماڈل شہری ادارہ کے طور پر ترقی دی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ قصبے میں سیلابی مسئلے کے مستقل حل کے لیے ریاستی حکومت نے 140 کروڑ روپئے منظور کیے ہیں۔

یہ رقم بلدیاتی و شہری ترقی محکمہ کے خصوصی ترقیاتی فنڈ کے تحت جاری کی گئی ہے۔ منصوبے کے مطابق سیلابی پانی کی نکاسی، نہروں کی ازسرِنو تعمیر اور وائرہ ندی کے کنارے مضبوط حفاظتی دیوار تعمیر کی جائے گی، تاکہ بارش کے دوران پانی کے دباؤ کو مؤثر طور پر سنبھالا جا سکے۔

سیلابی راحت کے بڑے منصوبے | Madira Flood

مجموعی رقم میں سے 65 کروڑ روپئے وائرہ ندی کے ساتھ حفاظتی دیوار کی تعمیر پر خرچ کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ 40 کروڑ روپئے سیلاب سے متاثرہ علاقوں جیسے ایلندو پاڈو، مدھوپلی اور عنبرپیٹہ میں نہروں کی تعمیر کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ شیوالا سے رایا پٹنم پل تک کے حصے کو بھی منصوبے میں شامل کیا گیا ہے۔

اہم نکاسی راستے آر سی ایم چرچ روڈ سے سائی بابا مندر تک ریلوے انڈر برج کے راستے، پولا کڈم واری اسٹریٹ اور آر اینڈ بی سب ڈویژن آفس سے شیوالا تک تعمیر کیے جائیں گے۔ مزید لائنیں راما لایم سے یادوا بازار، رائس مل سے ڈمپنگ یارڈ اور زرعی منڈی سے ڈمپنگ یارڈ تک جوڑی جائیں گی۔

تکنیکی بنیادوں پر ترقی | Madira Flood

حکومت موجودہ تمام طوفانی نالوں کی ازسرِنو ترتیب کے لیے 35 کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری کرے گی، جس کا مقصد پانی کے بہاؤ کو بہتر بنانا اور شدید بارش کے دوران رکاوٹوں کو کم کرنا ہے۔ یہ اقدامات زیرِ زمین نکاسی آب کے جاری منصوبوں کو بھی سہارا دیں گے۔

نائب وزیر اعلیٰ نے اعلیٰ حکام کے ساتھ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور زمین کی ساخت کا معائنہ کیا۔ انہوں نے وائرہ ندی پر مجوزہ پل، جو مدھیرا اور مدھوپلی کو جوڑے گا، کا بھی جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے آبپاشی، بلدیاتی اور محکمہ مال کے افسران سے تکنیکی امور پر مشاورت کی۔

انہوں نے واضح ہدایت دی کہ تعمیرات سے قبل سائنسی سروے اور عملی جانچ کو یقینی بنایا جائے اور تمام فیصلے تکنیکی بنیادوں پر ہوں، نہ کہ سیاسی مصلحت پر۔ دورے میں کمشنر اریگیلا سمپت کمار، تحصیلدار رالابنڈی رام بابو، سروے افسر اوشا رانی اور مختلف سیاسی جماعتوں کے مقامی قائدین بھی موجود تھے۔