Read in English  
       
Tree Felling Protest

حیدرآباد ۔ بنجارہ ہلز میں کے بی آر پارک کے قریب درختوں کی کٹائی کے خلاف احتجاج کے بعد کشیدگی پیدا ہوگئی جب پولیس نے سیو کے بی آر پارک تنظیم کے رضاکاروں کو تحویل میں لے لیا۔ ماحولیاتی کارکنوں کے مطابق یہ احتجاج انڈو-امریکن کینسر ہاسپٹل کے قریب درخت کاٹے جانے کے خلاف کیا گیا تھا۔ اس واقعہ نے شہر میں ماحولیاتی تحفظ سے متعلق نئی تشویش پیدا کردی ہے۔

بدھ کے روز جاری ایک بیان میں تنظیم نے کہا کہ مقامی رضاکاروں اور شہریوں نے منگل کی علی الصبح تقریباً 2 بجے علاقے میں درختوں کی کٹائی کی سرگرمی دیکھنے کے بعد پُرامن احتجاج کیا۔ رضاکار دیکشا نے بتایا کہ جی ایچ ایم سی کی جانب سے رات کے وقت مبینہ طور پر درخت کاٹنے کی اطلاع ملنے پر کارکن فوری طور پر مقام پر پہنچے۔

پرامن احتجاج کے دوران حراست | Tree Felling Protest

دیکشا کے مطابق رضاکاروں نے درختوں کی کٹائی روکنے کے لیے پُرامن مظاہرہ کیا۔ تاہم کچھ دیر بعد پولیس نے احتجاج کرنے والوں کو حراست میں لے لیا اور انہیں بنجارہ ہلز پولیس اسٹیشن منتقل کردیا۔ اس کارروائی کے بعد مقامی ماحولیاتی کارکنوں میں ناراضگی دیکھی گئی۔

تنظیم نے پولیس سے مطالبہ کیا کہ تحویل میں لیے گئے افراد کی موجودہ صورتحال اور مقام کے بارے میں فوری معلومات فراہم کی جائیں۔ مزید برآں رضاکاروں نے گرفتار افراد کو قانونی رسائی دینے اور فوری رہائی کا مطالبہ بھی کیا۔

ماحولیاتی کارکنوں میں تشویش | Tree Felling Protest

اس واقعہ کے بعد کے بی آر پارک کے اطراف درختوں کی کٹائی کے خلاف سرگرم ماحولیاتی کارکنوں میں تشویش مزید بڑھ گئی ہے۔ کارکنوں کا کہنا ہے کہ شہری علاقوں میں سبزہ کے تحفظ کے لیے شفاف پالیسی اور عوامی مشاورت ضروری ہے۔ اسی لیے مختلف سماجی تنظیمیں درختوں کی کٹائی کے خلاف آواز بلند کررہی ہیں۔

ماحولیاتی حلقوں نے مطالبہ کیا کہ شہری ترقیاتی منصوبوں میں ماحولیات کے تحفظ کو ترجیح دی جائے۔ علاوہ ازیں عوامی مقامات پر درختوں کی غیر ضروری کٹائی روکنے کے لیے سخت نگرانی اور واضح رہنمایانہ اصول وضع کیے جائیں۔