حیدرآباد: تلنگانہ نے عالمی اقتصادی فورم کے سالانہ اجلاس کے دوران ایک بڑی سفارتی اور اقتصادی کامیابی حاصل کی ہے۔ وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی کی قیادت میں ریاستی وفد نے مجموعی طور پر 19,500 کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری کے وعدے حاصل کیے ہیں۔ ان معاہدوں کا مرکز صنعتی توسیع اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا رہا۔
بدھ کے روز وزیر اعلیٰ اور ریاستی وزرا نے مختلف عالمی کمپنیوں کے ساتھ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کے نتیجے میں متعدد سرمایہ کاری معاہدوں کو حتمی شکل دی گئی، جنہیں ریاست کی معیشت کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
سب سے بڑی سرمایہ کاری رشمی گروپ کی جانب سے سامنے آئی، جس نے فولاد اور اس سے منسلک صنعتوں میں 12,500 کروڑ روپئے لگانے پر اتفاق کیا۔ اس منصوبے کے ذریعے ریاست میں تقریباً 12,000 روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔
صنعتی توسیع اور روزگار | Davos Investments
ریاستی حکومت نے امریکا سے تعلق رکھنے والی کمپنی سرگارڈ کے ساتھ بھی معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت ایک ایوی ایشن ایم آر او سہولت قائم کی جائے گی۔ اس منصوبے میں 1,000 کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری شامل ہے اور اس سے تلنگانہ کے ایرو اسپیس شعبے کو تقویت ملنے کی امید ہے۔
اسی دوران سلوواکیہ اور بھارت کے مشترکہ منصوبے سولار پروڈکٹس نے صاف توانائی کے شعبے میں 6,000 کروڑ روپئے کے منصوبے کے لیے اظہارِ دلچسپی جمع کرایا۔ یہ تجویز ریاست کی قابلِ تجدید اور پائیدار توانائی پالیسی سے ہم آہنگ سمجھی جا رہی ہے۔
تلنگانہ رائزنگ 2047 وژن | Davos Investments
داووس میں عالمی سرمایہ کاروں سے گفتگو کے دوران وزیر اعلیٰ نے تلنگانہ رائزنگ 2047 وژن پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت آنے والے برسوں میں تلنگانہ کو ایک مضبوط اقتصادی طاقت میں تبدیل کرنے کا عزم رکھتی ہے۔
انہوں نے آئی ٹی، مصنوعی ذہانت، لائف سائنسز، گرین انرجی اور مینوفیکچرنگ جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ ان کے مطابق مستحکم پالیسیاں، ہنرمند افرادی قوت اور مضبوط انفراسٹرکچر تلنگانہ کو سرمایہ کاری کے لیے پرکشش بناتے ہیں۔
وفد کے ہمراہ موجود عہدیداروں نے کہا کہ ان بات چیت سے تلنگانہ میں عالمی دلچسپی میں اضافے کی عکاسی ہوتی ہے۔ ان کے مطابق یہ معاہدے ریاست کی طویل مدتی ترقیاتی حکمت عملی کو آگے بڑھانے میں ایک اہم قدم ہیں۔
