State Debt Debate
حیدرآباد ۔ بی آر ایس کے کارگزار صدر کے ٹی راما راو نے تلنگانہ کی مالی صورتحال کے معاملے پر کانگریس حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ حیدرآباد کے سوماجی گوڑا پریس کلب میں منعقدہ “میٹ دی پریس” پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے الزام عائد کیا کہ کانگریس کے اقتدار میں آنے کے بعد ریاست کی معاشی حالت کمزور ہوئی ہے۔
کے ٹی راما راو نے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راو کے دور حکومت میں تلنگانہ ترقی کے میدان میں ملک کی صفِ اول کی ریاستوں میں شامل ہوا۔ ان کے مطابق ریاست نے مختلف شعبوں میں ایسی پیش رفت کی جس کی مثال دیگر ریاستوں میں کم ہی دیکھی گئی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ کانگریس نے ایسے وعدوں کے ذریعے اقتدار حاصل کیا جنہیں پورا کرنا ممکن نہیں تھا۔ مزید برآں انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت اپنے 6 گارنٹی وعدوں سمیت متعدد انتخابی وعدوں پر عمل درآمد میں ناکام رہی ہے۔
ریاستی آمدنی اور قرضوں پر سوالات | State Debt Debate
کے ٹی راما راو کے مطابق گزشتہ 2 برسوں کے دوران ریاستی آمدنی میں کمی واقع ہوئی ہے۔ دوسری جانب انہوں نے حکومت پر مالی مشکلات کا حوالہ دینے کے باوجود تشہیری سرگرمیوں پر بھاری اخراجات کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت تلنگانہ کے قرضوں کے بارے میں عوام کو گمراہ کر رہی ہے۔ ان کے مطابق بی آر ایس حکومت نے اپنے 10 سالہ دور میں تقریباً 2.8 لاکھ کروڑ روپے قرض حاصل کیا تھا۔
سابق وزیر نے الزام لگایا کہ کانگریس حکومت گزشتہ 2.5 برسوں میں تقریباً 4 لاکھ کروڑ روپے قرض لے چکی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ رقم کہاں خرچ کی جا رہی ہے اور دعویٰ کیا کہ موجودہ حکومت قرض لینے کے نئے ریکارڈ قائم کر رہی ہے۔
فیوچر سٹی منصوبے پر بھی اعتراض | State Debt Debate
کے ٹی راما راو نے حکومت کے اس دعوے کو بھی مسترد کیا کہ موجودہ قرضے بی آر ایس دور کے قرضوں کی ادائیگی کیلئے لیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے ان بیانات کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اصل ادائیگی کی رقم حکومت کے دعووں سے کہیں کم ہے۔
دریں اثنا انہوں نے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی کو ریاستی قرضوں اور مالی نظم و نسق پر عوامی مباحثے کا چیلنج بھی دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو تمام اعداد و شمار عوام کے سامنے رکھنے چاہئیں۔
فیوچر سٹی منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے کے ٹی راما راو نے دعویٰ کیا کہ اس منصوبے کیلئے منتخب کی گئی زمین دراصل فارما سٹی کیلئے حاصل کی گئی تھی۔ انہوں نے اس معاملے پر سینئر بی آر ایس رہنما ٹی ہریش راو کے مؤقف کی بھی حمایت کی۔
مزید برآں انہوں نے فیوچر سٹی میں صحافیوں کیلئے رہائشی پلاٹس مختص کرنے کی تجویز پر سوال اٹھایا۔ ان کے مطابق پیٹ بشیر آباد، منچریویلا اور بدویل جیسے علاقوں میں پہلے سے دستیاب زمین صحافیوں کو فراہم کی جا سکتی ہے۔
کے ٹی راما راو نے ایک بار پھر الزام عائد کیا کہ کانگریس حکومت تلنگانہ کی مالی صورتحال اور قرضوں کے بوجھ کے بارے میں عوام کو گمراہ کر رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت قرضوں اور اخراجات کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے پیش کرے۔
పవన్ కళ్యాణ్.. ముమ్మాటికీ తెలంగాణ ఈ భూమి పుత్రుల జాగీరే.. ఇక్కడున్న నాలుగు కోట్ల మంది జాగీరే.
100% ఈ నేల కోసం కష్టపడ్డ వాళ్లు, ఈ నేల కోసం పోరాటాలు చేసినవాళ్లు, ఈ నేల కోసం త్యాగాలు చేసినవాళ్లు, నెత్తురుతో తడిచిన నేల ఇది.
ప్రాంతీయవాదం ఉగ్రవాదం కంటే ప్రమాదం అన్న పవన్ కళ్యాణ్ కు… pic.twitter.com/7FadGwGzzF
— BRS Party (@BRSparty) June 3, 2026
