حیدرآباد: منچریال ضلع کے چینور میں اسٹیٹ بینک آف انڈیا (SBI) برانچ سے سونے اور نقدی کی گمشدگی کے معاملے کو پولیس نے بے نقاب کردیا۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ SBI Chennur fraud کیس میں بینک کے کیشیئر رویندر ہی اصل سازش کار تھا، جنہیں برانچ منیجر اور ایک آؤٹ سورسنگ ملازم کی مدد حاصل تھی۔
₹12.61 کروڑ کے سونے اور نقدی کی گمشدگی
پولیس کمشنر امبر کشور جھا نے اتوار کو بتایا کہ 25.17 کلو گرام سونے کے زیورات، جن کی مالیت تقریباً ₹12.61 کروڑ ہے اور 402 گولڈ لون اکاؤنٹس سے جڑے تھے، کے علاوہ ₹1.10 کروڑ نقدی بھی لاپتہ ہوگئے۔ SBI Chennur fraud کا یہ معاملہ 23 فروری کو اس وقت سامنے آیا جب ریجنل منیجر ریتیش کمار گپتا نے چینور پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی۔
بیٹنگ میں نقصان اور فراڈ کی منصوبہ بندی
تحقیقات میں پتہ چلا کہ کیشیئر رویندر نے آن لائن کرکٹ بیٹنگ میں 40 لاکھ روپے گنوا دیے تھے۔ نقصانات پورے کرنے کے لیے اس نے منیجر منوہر اور آؤٹ سورسنگ ملازم سندیپ کے ساتھ مل کر بینک میں رکھے گئے سونے کو ہتھیانے کا منصوبہ بنایا۔
اکتوبر میں رویندر نے بینک کے لاکر سے سونا نکال کر ایس بی ایف سی کے سیلز مینیجر بیریش، کسٹمر ریلیشن مینیجر راج شیکھر اور سیلز آفیسر کشور کو دے دیا۔ یہ زیورات مختلف پرائیویٹ فائننس کمپنیوں میں رہن رکھے گئے اور رقم کٹوتی کے بعد واپس رویندر تک پہنچائی گئی۔
جعلی لون اکاؤنٹس کا استعمال
گینگ نے 44 افراد کے نام پر 142 جعلی گولڈ لون لیے۔ ان کمپنیوں میں منا پورم، گوداوری اربن، انڈیل منی، ایس بی ایف سی اور متھوت فائنانس شامل ہیں۔
پولیس نے 44 افراد کو گرفتار کرلیا ہے، جن میں کیشیئر رویندر، منیجر منوہر، ملازم سندیپ، بیریش، راج شیکھر، کشور کمار، فوٹوگرافر سریش اور دیگر شامل ہیں۔ اب تک 15.23 کلو گرام سونا بازیاب کرلیا گیا ہے۔
