Rice Procurement
حیدرآباد ۔ تلنگانہ حکومت نے ربیع 2025-26 سیزن کے لیے چاول خریداری کے ہدف میں نمایاں اضافے کا مطالبہ کرتے ہوئے اس معاملے کو نئی دہلی میں مرکزی سطح پر اٹھایا ہے۔ ریاستی حکومت نے مرکز سے درخواست کی ہے کہ چاول خریداری کا ہدف 35 لاکھ میٹرک ٹن سے بڑھا کر 54.50 لاکھ میٹرک ٹن مقرر کیا جائے، جو پہلے ہی خریدی جا چکی 80.09 لاکھ میٹرک ٹن دھان کے مساوی ہے۔
آبپاشی و شہری رسد کے وزیر این اتم کمار ریڈی اور وزیر زراعت تُملّا ناگیشور راو کی قیادت میں ایک وفد نے مرکزی وزیر برائے صارفین امور، خوراک و عوامی تقسیم پرہلاد جوشی سے ملاقات کی۔ اس دوران ریاست کی جانب سے خریداری سے متعلق متعدد مطالبات پیش کیے گئے۔
وفد نے مرکز سے یہ اجازت بھی طلب کی کہ پوری مقدار ابالے ہوئے چاول کی شکل میں فراہم کی جا سکے۔ وزرا کے مطابق تلنگانہ میں ربیع سیزن کے دوران پیدا ہونے والی زیادہ تر دھان ابالے ہوئے چاول کی ملنگ کے لیے موزوں ہوتی ہے۔
دریں اثنا تلنگانہ نے اپنی تاریخ میں دھان خریداری کا نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ ربیع 2025-26 کے دوران 80.09 لاکھ میٹرک ٹن دھان خریدی جا چکی ہے جبکہ تاخیر سے فصل کاٹنے والے اضلاع سے مزید آمد جاری ہے۔ اسی طرح خریف اور ربیع دونوں سیزنوں کو ملا کر کے ایم ایس 2025-26 میں مجموعی خریداری 152 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئی، جو تلنگانہ اور سابق متحدہ آندھرا پردیش کی تاریخ میں سب سے زیادہ ہے۔
مالی بوجھ میں بڑا اضافہ | Rice Procurement
وزرا نے مرکزی حکومت کو بتایا کہ ریاست نے ابتدائی طور پر ربیع سیزن میں تقریباً 90 لاکھ میٹرک ٹن دھان خریداری کا تخمینہ پیش کیا تھا۔ تاہم مرکز نے چاول خریداری کا ہدف صرف 35 لاکھ میٹرک ٹن مقرر کیا جو 51.47 لاکھ میٹرک ٹن دھان کے مساوی بنتا ہے۔ نتیجتاً ریاست کو منظور شدہ مقدار سے تقریباً 29 لاکھ میٹرک ٹن زیادہ دھان خریدنا پڑا۔
مزید برآں وفد نے مؤقف اختیار کیا کہ کم خریداری ہدف کی وجہ سے کسانوں کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔ شدید گرمی، ہمالیوں کی کمی، گوداموں کی قلت، نقل و حمل کے مسائل، مکئی کی بیک وقت آمد اور بے موسم بارشوں کے باوجود ریاست نے کم از کم امدادی قیمت اور معیاری ضوابط کے تحت خریداری جاری رکھی۔
وزرا نے کسٹم ملڈ رائس کی فراہمی کے لیے اضافی وقت دینے کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے ربیع 2024-25 کی باقی ماندہ سپلائی کے لیے 60 دن اور خریف 2025-26 کی سپلائی کے لیے 120 دن کی توسیع طلب کی۔
ریاستی حکومت کے مطابق گوداموں کی کمی اور بڑی مقدار میں فصل کی آمد کے باعث مرکزی پول تک چاول کی منتقلی کی رفتار متاثر ہوئی ہے۔ لہٰذا سپلائی کی تکمیل کے لیے اضافی مہلت ناگزیر ہے۔
وفد نے مستقبل کے خریداری اہداف سے متعلق بھی اہم مطالبہ پیش کیا۔ وزرا نے کہا کہ آئندہ اہداف ریاستی حکومت کی جانب سے پیش کردہ پیداوار اور خریداری کے تخمینوں کے مطابق طے کیے جائیں کیونکہ غیر حقیقی اہداف انتظامی مسائل پیدا کرتے ہیں اور کسانوں کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
کسانوں کے مفاد میں پالیسی تبدیلی کا مطالبہ | Rice Procurement
وفد نے مرکز کی منظوری سے زائد خریداری کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مالی بوجھ کو بھی اجاگر کیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 3 بڑے خریداری سیزنوں کے دوران تلنگانہ نے منظور شدہ مقدار سے 69.50 لاکھ میٹرک ٹن زیادہ دھان خریدی، جس کے نتیجے میں ریاست پر تقریباً 16,446 کروڑ روپے کا اضافی مالی بوجھ پڑا۔
سب سے زیادہ بوجھ ربیع 2025-26 کے دوران سامنے آیا۔ اس عرصے میں 80.09 لاکھ میٹرک ٹن دھان خریدی گئی جبکہ مرکز کی جانب سے منظور شدہ مقدار 51.47 لاکھ میٹرک ٹن کے مساوی تھی۔ چنانچہ 28.62 لاکھ میٹرک ٹن اضافی خریداری کے باعث تقریباً 6,837 کروڑ روپے کی اضافی ذمہ داری عائد ہوئی۔
اسی طرح ربیع 2024-25 کے دوران ریاست پر 5,278 کروڑ روپے اور خریف 2025-26 کے دوران 4,331 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑا کیونکہ خریداری مرکز کے منظور شدہ اہداف سے زیادہ رہی۔
وزرا نے مرکزی حکومت کو بتایا کہ آبپاشی کے وسیع منصوبے، جدید زرعی طریقے، بلاتعطل بجلی کی فراہمی اور مسلسل حکومتی تعاون نے تلنگانہ میں دھان کی پیداوار میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ لہٰذا انہوں نے مرکز سے مطالبہ کیا کہ بڑھا ہوا خریداری ہدف منظور کیا جائے، ابالے ہوئے چاول کی فراہمی کی اجازت دی جائے اور ایسی پالیسی اختیار کی جائے جو ریاست کی موجودہ زرعی پیداوار کی حقیقی صورتحال کی عکاسی کرتی ہو۔
Telangana Seeks Major Revision in Rice Procurement Target
Uttam Leads Delegation to Centre Amid Record Paddy Production
Urges Centre to raise Rabi 2025-26 ‘rice procurement’ target from 35 LMT to 54.50 LMT
Seeks permission for making delivery as boiled rice
Highlights… pic.twitter.com/d14jaPaNpG
— IPRDepartment (@IPRTelangana) June 23, 2026
