Read in English  
       
E-Waste Awareness

حیدرآباد ۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (جی ایچ ایم سی) نے ای ویسٹ سے متعلق آگاہی مہم شروع کرتے ہوئے شہریوں کو صحت اور ماحول کے لیے لاحق خطرات سے خبردار کیا ہے۔ حکام نے کہا کہ الیکٹرانک کچرے کو غلط طریقے سے ٹھکانے لگانا سنگین مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ مزید یہ کہ اس حوالے سے عوامی شعور بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

حکام کے مطابق موبائل فون، بیٹریاں اور کیبلز جیسے الیکٹرانک آلات اگر عام کچرے میں پھینکے جائیں تو زہریلے مادے خارج کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے کچرے کو جلانے سے سیسہ، پارہ اور کیڈمیم جیسے خطرناک کیمیکل فضا میں شامل ہو جاتے ہیں۔

مزید برآں یہ زہریلے عناصر ہوا، مٹی اور زیر زمین پانی کو آلودہ کرتے ہیں۔ نتیجتاً یہ انسانی صحت اور ماحولیاتی نظام کے لیے طویل مدتی خطرات کا باعث بنتے ہیں۔

صحت اور ماحول پر اثرات | E-Waste Awareness

حکام نے کہا کہ ای ویسٹ کو غیر محفوظ طریقے سے سنبھالنے سے کئی سنگین بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ان کے مطابق زہریلے مادوں کی نمائش کینسر، اعصابی نقصانات اور سانس کی بیماریوں سے منسلک ہے۔

مزید یہ کہ بچے اور بزرگ افراد ان خطرات سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ لہٰذا حکام نے محفوظ طریقے سے کچرا ٹھکانے لگانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس طرح صحت کے مسائل کو کم کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں ہر سال ہزاروں ٹن الیکٹرانک کچرا پیدا ہوتا ہے۔ تاہم اس کا بڑا حصہ اب بھی غیر محفوظ طریقوں سے تلف کیا جاتا ہے، حالانکہ اسے ری سائیکل کیا جا سکتا ہے۔

عوامی ذمہ داری اور حل | E-Waste Awareness

حکام نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ای ویسٹ کے مناسب انتظام میں اپنی ذمہ داری ادا کریں۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ اجتماعی کوششوں کے بغیر اس مسئلے پر قابو پانا ممکن نہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ محفوظ طریقوں کو اپنانے سے ماحولیاتی نقصان کو کم کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ شہریوں کو ری سائیکلنگ کے طریقوں سے بھی آگاہ کیا جانا چاہیے۔

آخر میں حکام نے کہا کہ ایک محفوظ شہری ماحول کے لیے ضروری ہے کہ ہر فرد اس مہم میں حصہ لے۔ اس طرح نہ صرف صحت بلکہ ماحول کا تحفظ بھی ممکن ہوگا۔