حیدرآباد: بی آر ایس کے ورکنگ صدر کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ پنچایت انتخابات کے نتائج نے تلنگانہ میں کانگریس حکومت کے لیے واضح سیاسی پیغام دیا ہے۔ ان کے مطابق عوامی ناراضی میں مسلسل اضافہ ہوا ہے اور آنے والے مہینوں میں حالات مزید بدل سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عادل آباد سے عالم پور تک نتائج بی آر ایس کے مضبوط ہوتے ہوئے ووٹ بینک کو ظاہر کرتے ہیں۔
کے ٹی آر نے ان سرپنچ اور وارڈ ممبر امیدواروں کو مبارکباد دی جنہوں نے حکومتی دباؤ کے باوجود کامیابی حاصل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کارکردگی پارٹی کی تنظیمی طاقت کو ثابت کرتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کارکنوں نے مبینہ دھمکیوں کے باوجود پہلے مرحلے میں مضبوطی کا مظاہرہ کیا۔
بی آر ایس کا موقف اور دیہی سیاسی رجحانات | Rural Discontent
کے ٹی آر نے کانگریس پر تشدد انگیز حربے استعمال کرنے کا الزام عائد کیا۔ ان کے مطابق بی آر ایس کارکن ہر مرحلے پر ڈٹے رہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے اضلاع کے دوروں اور اجلاسوں کے باوجود کانگریس کے ووٹ میں مطلوبہ اضافہ نہیں ہوا۔ ان کے مطابق کئی حلقوں میں پارٹی چوالیس فیصد سے آگے نہ بڑھ سکی، جو واضح عوامی بے اطمینانی کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انتظامی ناکامیوں نے حکمران جماعت کی ابتدائی امیدوں کو کمزور کر دیا۔ ان کے مطابق پنچایت نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ تلنگانہ میں بی آر ایس ہی واحد مضبوط متبادل ہے، جبکہ بی جے پی اب بھی مؤثر موجودگی قائم نہیں کر سکی۔ مقامی سطح پر کئی ووٹ اگرچہ تھوڑے فرق سے پڑے، مگر ان میں بھی حکومتی بے عملی جھلکتی ہے۔
ترقیاتی خدشات، فلاحی وعدے اور دیہی ناراضی | Rural Discontent
کے ٹی آر نے الزام لگایا کہ حکومت نے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق پنشن، مہا لکشمی پروگرام اور سونے کی گارنٹی جیسے وعدوں نے دیہی ووٹر کے ذہن پر اثر ڈالا۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں میں یوریا کی فراہمی میں تاخیر، بونس کے وعدے اور خریداری کے مسائل شدید بے چینی کا سبب بنے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ کئی گاؤں جو ایک دہائی تک ترقی کرتے رہے تھے، گزشتہ دو برسوں میں پیچھے چلے گئے۔ صفائی کے مسائل اور ایندھن کی بڑھتی قیمتوں نے بھی عوامی سوچ کو متاثر کیا۔ بی آر ایس رہنما نے دعویٰ کیا کہ ان تمام عوامل نے دیہی ووٹر کے رجحان کو واضح طور پر بدل دیا ہے، اور کانگریس کے لیے “الٹی گنتی” شروع ہو چکی ہے۔
తొలిదశ పంచాయతీ పోరులో అధికార కాంగ్రెస్ పార్టీ ఎన్ని దౌర్జన్యాలు చేసినా హోరాహోరీగా పోరాడి సర్పంచులుగా, వార్డుమెంబర్లుగా గెలిచిన బీఆర్ఎస్ మద్దతుదారులకు హృదయపూర్వకంగా శుభాకాంక్షలు.
కాంగ్రెస్ పార్టీ హత్యారాజకీయాలకు పాల్పడినా మొక్కవోని ధైర్యంతో అధికార పార్టీ అరాచకపర్వాన్ని ఎదుర్కొని…
— KTR (@KTRBRS) December 12, 2025
