Read in English  
       
Higher Education

حیدرآباد: تلنگانہ اسٹیٹ کونسل آف ہائر ایجوکیشن کے چیئرمین پروفیسر بالکسٹا ریڈی نے منگل کے روز کہا کہ تلنگانہ کا اعلیٰ تعلیم ماڈل اب جنوبی ریاستوں کے لیے ایک معیاری مثال بن کر ابھرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی پر مبنی اصلاحات نے ریاست کے تعلیمی نظام کو مضبوط کیا ہے۔

شاہ میرپیٹ میں واقع نلسار یونیورسٹی آف لا میں منعقدہ جنوبی خطے کی راؤنڈ ٹیبل میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ صنعت کے ساتھ روابط اور اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی نے تعلیمی نتائج میں نمایاں بہتری لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

طویل مدتی منصوبہ بندی کا کردار | Higher Education

پروفیسر بالکسٹا ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ ایجوکیشن پالیسی، جو نیشنل ایجوکیشن پالیسی 2020 سے ہم آہنگ ہے، ریاست کو عالمی سطح پر علم اور اختراع کا مرکز بنانے کا ہدف رکھتی ہے۔ ان کے مطابق رائزنگ تلنگانہ 2047 روڈمیپ یونیورسٹیوں میں اصلاحات کی سمت متعین کر رہا ہے۔

انہوں نے جنوبی ریاستوں کی جامعات کو درپیش چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ تعلیم میں نئی قیادت کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی نظم و نسق کو صنعت کی بدلتی ضروریات کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔

اشتراکی ماڈل پر زور | Higher Education

پروفیسر ریڈی نے کہا کہ صرف رسمی معاہدوں تک محدود رہنے کے بجائے جامعات کو کنسورشیم ماڈل اپنانا چاہیے۔ ان کے مطابق اس طریقہ کار کے تحت جامعات، صنعت اور حکومت مل کر قابلِ پیمائش نتائج حاصل کر سکتی ہیں۔

انہوں نے تلنگانہ کی جامعات پر زور دیا کہ وہ کینیڈا کے تعلیمی اداروں کے ساتھ فعال شراکت داری قائم کریں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ہائر ایجوکیشن کونسل ایسی بین الاقوامی تعاون کی کوششوں میں مکمل تعاون فراہم کرے گی۔

اس موقع پر نلسار یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر کرشنا دیوا راؤ نے کہا کہ ادارہ عالمی سطح پر تعاون اور تحقیق کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے۔ شاستری انڈو کینیڈین انسٹی ٹیوٹ کی ڈائریکٹر ڈاکٹر پراچی کول نے اجلاس کے دوران ادارے کی نئی حکمت عملیوں سے بھی آگاہ کیا۔

میٹنگ میں کرناٹک، تمل ناڈو، آندھرا پردیش، کیرالہ اور تلنگانہ سے تقریباً 25 وائس چانسلرز اور ڈائریکٹرز نے بالمشافہ اور آن لائن شرکت کی۔