Read in English  
       
Statehood Issue

حیدرآباد ۔ سینئر کانگریس رہنما محمد علی شبیر نے جن سینا سربراہ اور آندھرا پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ پون کلیان کی جانب سے تلنگانہ کے قیام پر اٹھائے گئے سوالات پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست کی تشکیل ایک آئینی اور جمہوری عمل کے ذریعے ممکن ہوئی تھی اور اس معاملے کو دوبارہ چھیڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

پیر کو جاری کردہ ایک بیان میں محمد علی شبیر نے کہا کہ تلنگانہ کا قیام عوام کی طویل جدوجہد، قربانیوں اور آئینی عمل کا نتیجہ تھا۔ ان کے مطابق اس مسئلے کو دوبارہ موضوع بحث بنانا سیاسی محرکات کا عکاس ہے اور اس سے کسی مثبت مقصد کی تکمیل نہیں ہوتی۔

تلنگانہ تحریک کی آئینی کامیابی | Statehood Issue

محمد علی شبیر نے کہا کہ تلنگانہ ریاست کا قیام ایک مکمل اور طے شدہ باب ہے جو جمہوری اور آئینی طریقہ کار کے تحت وجود میں آیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس معاملے کو دوبارہ اٹھانا نہ صرف غیر ضروری ہے بلکہ اس سے عوامی توجہ اصل مسائل سے ہٹ سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے عوام نے الگ ریاست کے حصول کے لیے طویل تحریک چلائی تھی اور اس تحریک نے لاکھوں افراد کی امنگوں کی نمائندگی کی۔ چنانچہ اس حقیقت کو نظر انداز کرتے ہوئے دوبارہ بحث چھیڑنا عوامی جذبات اور تاریخی حقائق کے منافی ہے۔

مزید برآں محمد علی شبیر نے الزام عائد کیا کہ پون کلیان ایک ایسے مسئلے کو زندہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو برسوں پہلے حل ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق جن سینا سربراہ کے حالیہ بیانات بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے ماضی میں کی جانے والی تنقید سے مماثلت رکھتے ہیں۔

سیاسی مقاصد اور بین الریاستی تعلقات | Statehood Issue

کانگریس رہنما نے سوال اٹھایا کہ موجودہ وقت میں ریاست کی تشکیل پر اعتراضات یا شکوک و شبہات پیدا کرنے کا مقصد کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی قیادت کو تاریخی تنازعات کو ہوا دینے کے بجائے موجودہ عوامی اور انتظامی چیلنجز پر توجہ دینی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے قیام سے متعلق بحث کو سیاسی متحرک سازی کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔ تاہم اگر اس مسئلے کو بار بار اٹھایا جاتا رہا تو اس سے علاقائی جذبات بھڑک سکتے ہیں اور غیر ضروری کشیدگی پیدا ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے۔

محمد علی شبیر کے مطابق ذمہ دار قیادت کا تقاضا ہے کہ جمہوری فیصلوں اور آئینی عمل کا احترام کیا جائے۔ اس کے علاوہ عوامی مسائل کے حل اور ترقیاتی امور کو ترجیح دی جائے تاکہ دونوں ریاستوں کے درمیان مثبت ماحول برقرار رہے۔

انہوں نے تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے درمیان مزید مضبوط تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ریاستوں کے رہنماؤں کو سیاسی تنازعات میں الجھنے کے بجائے بات چیت، رابطے اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دینا چاہیے۔

مزید یہ کہ بین الریاستی سطح پر زیر التوا معاملات کو مذاکرات اور باہمی مفاہمت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ دونوں تلگو بولنے والی ریاستوں کے درمیان خوشگوار تعلقات علاقائی ترقی اور عوامی مفاد کے لیے انتہائی اہم ہیں۔

محمد علی شبیر نے ایک بار پھر واضح کیا کہ تلنگانہ کا قیام آئینی تقاضوں اور جمہوری عمل کے مطابق عمل میں آیا تھا اور اس معاملے پر دوبارہ بحث چھیڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کے مطابق سیاسی قیادت کو ماضی کے تنازعات کے بجائے موجودہ ترقیاتی، انتظامی اور عوامی مسائل پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے تاکہ خطے میں استحکام اور تعاون کو فروغ مل سکے۔