Read in English  
       
Party Switch

حیدرآباد: تلنگانہ میں جمعہ کے روز سیاسی حلقوں میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب بی آر ایس کے سینئر رہنما اور سابق آئی پی ایس افسر آر ایس پروین کمار نے پارٹی تبدیلی سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کو یکسر مسترد کر دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کے بارے میں پھیلائی جا رہی اطلاعات بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں۔

سوشل میڈیا پر جاری بیان میں آر ایس پروین کمار نے کہا کہ ان کے کسی اور سیاسی جماعت میں شامل ہونے کی خبریں جعلی ہیں۔ ان کا الزام تھا کہ حکمراں کانگریس عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کے لیے دانستہ طور پر ایسی افواہیں پھیلا رہی ہے۔

ان کے مطابق تلنگانہ میں عوامی ناراضگی اب کھل کر سامنے آ رہی ہے، جس کے باعث توجہ ہٹانے کی حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے ہتھکنڈے حقیقت کو زیادہ دیر نہیں چھپا سکتے۔

بی آر ایس سے وابستگی کا اعادہ | Party Switch

آر ایس پروین کمار نے کہا کہ انہوں نے پوری سوچ بچار کے بعد بی آر ایس میں شمولیت اختیار کی تھی۔ ان کے بقول ریاست کے تمام طبقات کا مستقبل اسی جماعت کے ساتھ محفوظ ہے، اور ان کا مؤقف وقت کے ساتھ تبدیل نہیں ہوا۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ بی آر ایس کے اقتدار میں نہ ہونے کے باوجود ان کا موقف برقرار رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کی جانب سے ماضی میں کی گئی پیشکشیں بھی ان کے فیصلے کو متاثر نہ کر سکیں۔

قیادت پر اعتماد اور آئندہ انتباہ | Party Switch

بی آر ایس رہنما نے کہا کہ وہ پارٹی کے سربراہ کے چندر شیکھر راؤ کی قیادت میں مضبوطی سے کھڑے ہیں، جنہوں نے تلنگانہ تحریک کی قیادت کی۔ ان کے مطابق اس جدوجہد سے پیچھے ہٹنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ غلط فیصلوں کی وجہ سے تلنگانہ پہلے ہی نقصان اٹھا چکا ہے، اور اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو آنے والی نسلوں کو اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔ آخر میں انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جعلی خبروں کا سلسلہ بند نہ ہوا تو وہ قانونی کارروائی شروع کریں گے۔