Read in English  
       
LPG Price Hike

حیدرآباد ۔ کانگریس رہنما ارحم عادل نے ایل پی جی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے نے عام گھریلو صارفین اور چھوٹے کاروباروں پر مالی دباؤ بڑھا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا جب عوام پہلے ہی مہنگائی کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔ مزید برآں انہوں نے اس اقدام کو عوامی مفاد کے خلاف قرار دیا۔

قبل ازیں، ارحم عادل نے اس فیصلے کے وقت پر سوال اٹھاتے ہوئے مرکزی وزیر پیٹرولیم ہردیپ سنگھ پوری کے سابقہ بیانات کا حوالہ دیا، جن میں قیمتوں میں اضافے کی کسی تجویز سے انکار کیا گیا تھا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اب یہ اضافہ ان بیانات کے برعکس نظر آتا ہے۔ اسی دوران انہوں نے کانگریس رہنما راہول گاندھی کے ان خدشات کا بھی ذکر کیا جو انہوں نے انتخابات کے بعد قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے ظاہر کیے تھے۔

ارحم عادل کے مطابق تیل مارکیٹنگ کمپنیوں کو کچھ عرصے سے مالی دباؤ کا سامنا تھا، لیکن انہوں نے الزام لگایا کہ اس مسئلے کا بوجھ براہ راست صارفین پر ڈال دیا گیا۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ پالیسی سطح پر اصلاحات کے بجائے عوام کو متاثر کرنا ایک غیر مؤثر حکمت عملی ہے۔

عالمی قیمتوں کے باوجود اضافہ | LPG Price Hike

ارحم عادل نے نشاندہی کی کہ حالیہ ہفتوں میں عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ہے۔ تاہم اس کے باوجود مقامی صارفین کو کسی قسم کا ریلیف نہیں دیا گیا۔ اسی لیے انہوں نے مطالبہ کیا کہ قیمتوں کے تعین میں عالمی رجحانات کو مدنظر رکھا جائے تاکہ عوام کو فائدہ پہنچ سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایندھن کی قیمتوں میں بار بار تبدیلی سے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔ نتیجتاً نہ صرف کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں بلکہ صارفین کا اعتماد بھی کمزور پڑتا ہے۔ لہٰذا شفافیت کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

چھوٹے دکانداروں پر دباؤ | LPG Price Hike

ارحم عادل نے کہا کہ ایل پی جی پر انحصار کرنے والے چھوٹے دکانداروں اور کھانے پینے کے مراکز کے لیے یہ اضافہ ایک بڑا جھٹکا ہے۔ ان کے مطابق یہ کاروبار کم منافع پر چلتے ہیں اور اضافی لاگت برداشت کرنا ان کے لیے مشکل ہوتا ہے۔ مزید برآں انہوں نے بتایا کہ حیدرآباد کے نامپلی، امیرپیٹ، ٹولی چوکی، یوسف گوڑہ، کوکٹ پلی اور قدیم شہر کے کئی علاقوں میں دکاندار پہلے ہی مشکلات سے دوچار ہیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ بعض مقامات پر سپلائی کی کمی کے باعث دکانداروں کو سلنڈر زیادہ قیمت پر خریدنے پڑ رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ قیمت حساس علاقوں میں کھانے کی قیمتیں بڑھانا بھی ممکن نہیں، جس سے کاروبار مزید متاثر ہو رہا ہے۔ اسی دوران انہوں نے نشاندہی کی کہ ماضی میں ایسے اضافوں کے باعث کچھ ہوٹل عارضی طور پر بند ہو گئے جبکہ کچھ نے لکڑی کے چولہوں کا استعمال شروع کر دیا۔

آخر میں ارحم عادل نے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت سے اپیل کی کہ وہ اس اضافے پر نظر ثانی کرے اور کمزور طبقات کو مزید مالی دباؤ سے بچائے۔ مزید برآں انہوں نے ایندھن کی قیمتوں کے تعین کے عمل میں شفافیت بڑھانے کا مطالبہ کیا تاکہ پالیسی فیصلے عوامی مفاد کے مطابق ہوں۔