Read in English  
       
Gold Loan Growth

حیدرآباد: بھارت میں گولڈ لون فراہم کرنے والی نان بینکنگ فنانس کمپنیاں آئندہ دو برسوں میں نمایاں ترقی درج کرنے جا رہی ہیں۔ کریسل ریٹنگز کی رپورٹ کے مطابق ان اداروں کے زیرِ انتظام اثاثے مارچ 2027 تک 4 لاکھ کروڑ روپئے سے تجاوز کر سکتے ہیں، جو مالیاتی شعبے میں ایک بڑی پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔

رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ گولڈ لون این بی ایف سیز کی ترقی کی شرح آئندہ دو برسوں میں تقریباً 40 فیصد رہے گی۔ یہ رفتار گزشتہ دو برسوں میں ریکارڈ کی گئی اوسط 27 فیصد ترقی کے مقابلے میں خاصی زیادہ ہے، جو اس شعبے میں بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔

سونے کی قیمتوں اور ضابطوں کا کردار | Gold Loan Growth

کریسل ریٹنگز کے مطابق اس تیز رفتار اضافے کی بنیادی وجہ سونے کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہے۔ موجودہ مالی سال کے پہلے نو مہینوں کے دوران سونے کی قیمتوں میں تقریباً 68 فیصد اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں قرض دہندگان کو ایک ہی ضمانت کے بدلے زیادہ قرض فراہم کرنے کا موقع ملا۔

اس کے علاوہ غیر محفوظ قرضوں پر سخت ضابطوں نے بھی صارفین کو نسبتاً محفوظ متبادل، یعنی گولڈ لون، کی جانب مائل کیا ہے۔ اس رجحان کے باعث مختلف صارفین کے طبقات میں سونے کے عوض قرض لینے کی طلب میں واضح اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

این بی ایف سیز کی حکمتِ عملی | Gold Loan Growth

رپورٹ کے مطابق بڑے گولڈ لون این بی ایف سیز نے اپنی مضبوط برانڈ شناخت اور موجودہ شاخوں کے ذریعے کاروبار میں توسیع کی۔ دوسری جانب درمیانے درجے کے اداروں نے نئی شاخیں قائم کیں اور بینکوں و بڑی این بی ایف سیز کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے بطور اوریجنٹنگ ایجنٹس کام شروع کیا۔

کریسل ریٹنگز کی ڈائریکٹر اپرنا کیروباکرن نے بتایا کہ فی شاخ اوسط زیرِ انتظام اثاثے مالی سال 2024 میں 10 کروڑ روپئے تھے، جو موجودہ مالی سال کے پہلے نصف میں بڑھ کر 14 کروڑ روپئے تک پہنچ گئے ہیں۔ ان کے مطابق یکم اپریل 2026 سے نافذ ہونے والے چھوٹے گولڈ لونز کے لیے آسان لون ٹو ویلیو ضابطے بھی اس شعبے کی ترقی کو مزید تقویت دیں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سونے کی قیمتوں میں استحکام اور موجودہ ضابطہ جاتی ماحول برقرار رہا تو گولڈ لون این بی ایف سیز آئندہ برسوں میں مالیاتی شعبے کا ایک مضبوط ستون بن سکتی ہیں۔