حیدرآباد: تلنگانہ حکومت نے ڈگری اور پی جی نصاب میں وسیع اصلاحات کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں، تاکہ اعلیٰ تعلیم کو صنعتی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔ اس اقدام کا مقصد طلبہ کے لیے روزگار کے بہتر مواقع پیدا کرنا ہے۔ حکام کے مطابق نصاب میں تبدیلی سے تعلیم اور عملی مہارت کے درمیان خلا کم ہو گا۔
یہ معاملہ منگل کے روز حیدرآباد میں منعقدہ تلنگانہ اسٹیٹ کونسل آف ہائر ایجوکیشن کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں زیر بحث آیا۔ اجلاس کی صدارت چیئرمین بالا کِشٹا ریڈی نے کی، جبکہ محکمہ تعلیم کی سکریٹری یوگیتا رانا بھی موجود تھیں۔
کونسل نے فیصلہ کیا کہ ڈگری اور پی جی نصاب کی ازسرنو تشکیل میں صرف تعلیمی ماہرین ہی نہیں بلکہ اعلیٰ اداروں کے سینئر پروفیسروں سے بھی رہنمائی لی جائے گی۔ ان اداروں میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، سینٹر فار سیلولر اینڈ مولیکیولر بایولوجی، ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن اور مرکزی یونیورسٹیاں شامل ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ طلبہ تعلیم کے دوران ہی ملازمت کے قابل بن سکیں۔
روزگار سے جڑا نیا نصاب، دائرہ وسیع | Degree Syllabus
اجلاس میں بتایا گیا کہ اس وقت روزگار سے منسلک تعلیمی پروگرام محدود کالجوں تک ہی دستیاب ہیں۔ کونسل نے زور دیا کہ ان کورسز کو سرکاری اور نجی کالجوں کی بڑی تعداد تک پھیلایا جائے، تاکہ زیادہ سے زیادہ طلبہ اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔
اراکین کا کہنا تھا کہ نصاب کو عملی مہارتوں سے جوڑنے کے لیے صنعتوں کی ضروریات کو براہ راست شامل کرنا ضروری ہے۔ اس سے نہ صرف تعلیم کا معیار بہتر ہو گا بلکہ گریجویٹس کے لیے ملازمت کے امکانات بھی بڑھیں گے۔
وسائل کا اشتراک اور امتحانات پر توجہ | Degree Syllabus
ایگزیکٹو کمیٹی نے تعلیمی وسائل کے بہتر استعمال پر بھی زور دیا۔ یونیورسٹیوں کو مشورہ دیا گیا کہ وہ پولی ٹیکنک اداروں کی مدد کریں، خاص طور پر جدید لیبارٹریوں اور کھیلوں کی سہولتوں تک طلبہ کی رسائی کو ممکن بنایا جائے۔
اس کے علاوہ آنے والے مشترکہ داخلہ امتحانات کے انعقاد پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ ہدایت دی گئی کہ امتحانات بغیر کسی تکنیکی یا انتظامی رکاوٹ کے منعقد کیے جائیں۔ اجلاس میں یونیورسٹیوں میں اسسٹنٹ پروفیسر کی اسامیوں، ایگزیکٹو کونسلز کی تشکیل اور دیگر انتظامی امور پر بھی غور کیا گیا۔
