Read in English  
       
RTC Dialogue

حیدرآباد ۔ ریاستی وزیر ٹرانسپورٹ و بی سی ویلفیئر پونم پربھاکر نے آر ٹی سی ملازمین سے ہڑتال کا فیصلہ واپس لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام ادارے اور عوام دونوں کے مفاد میں ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ ہے اور بات چیت کے ذریعے حل تلاش کرنا چاہتی ہے۔

پس منظر میں وزیر نے کہا کہ حکومت ملازمین کے تحفظات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے تیار ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ آر ٹی سی انضمام اور مزدور یونین سے متعلق امور حکومتی دائرہ اختیار میں آتے ہیں اور انہیں اسی تناظر میں دیکھا جائے گا۔

انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت کے دروازے ہمیشہ مذاکرات کے لیے کھلے ہیں۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ ملازمین کے مسائل کو ایک منظم اور خوش اسلوبی کے ساتھ حل کیا جا سکتا ہے، جس سے دونوں فریقین کو فائدہ ہوگا۔

ہڑتال، انضمام اور اصلاحات | RTC Dialogue

پونم پربھاکر نے کہا کہ موجودہ حالات میں ہڑتال کا خاتمہ نہایت ضروری ہے، کیونکہ ادارہ استحکام کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سابق حکومت نے 9 ستمبر 2023 کو آر ٹی سی انضمام کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی، تاہم انتخابی عمل سے قبل اس معاملے کو جلد بازی میں آگے بڑھایا گیا۔

مزید یہ کہ انہوں نے کہا کہ مسلسل انتخابات، جن میں اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات شامل ہیں، نے اس عمل کو متاثر کیا۔ لہٰذا انہوں نے زور دیا کہ انضمام جیسے اہم فیصلے کے لیے ریاست کی مالی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے تفصیلی جائزہ لینا ضروری ہے۔

اسی دوران وزیر نے موجودہ حکومت کے ابتدائی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اقتدار سنبھالنے کے 48 گھنٹوں کے اندر “مہالکشمی” اسکیم شروع کی گئی، جس کے تحت خواتین کو مفت بس سفر کی سہولت فراہم کی گئی۔ نتیجتاً اس اسکیم نے آر ٹی سی کے آپریشنز کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

خدمات کی توسیع اور مالی استحکام | RTC Dialogue

دریں اثنا وزیر نے کہا کہ آر ٹی سی، جو کبھی مشکلات کا شکار تھی، اب بحالی کی جانب گامزن ہے اور 90 سے زائد ڈپو منافع میں آ چکے ہیں۔ مزید برآں انہوں نے بتایا کہ اصلاحاتی اقدامات کے تحت پی ایف واجبات ₹1,205 کروڑ سے کم ہو کر ₹600 کروڑ ہو گئے، جبکہ سی سی ایس واجبات ₹690 کروڑ سے کم ہو کر ₹300 کروڑ تک پہنچ گئے۔

انہوں نے کہا کہ ہڑتال سے عوامی ٹرانسپورٹ متاثر ہوگی، لہٰذا اسے روکنا ضروری ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اسی کے ساتھ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے 2,978 نئی بسیں متعارف کروائیں اور 1,134 ہمدردانہ تقرریاں فراہم کیں، جس سے ادارے کی صلاحیت میں اضافہ ہوا۔

مزید یہ کہ انہوں نے کہا کہ بھرتی کے امتحانات مکمل ہو چکے ہیں اور نئے ملازمین جلد خدمات انجام دیں گے۔ نتیجتاً یہ اقدامات آر ٹی سی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

آخر میں پونم پربھاکر نے کہا کہ حکومت تین اہم پہلوؤں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، جن میں ادارے کا تحفظ، ملازمین کی فلاح و بہبود اور مسافروں کی سہولت شامل ہیں۔ انہوں نے ملازمین سے اپیل کی کہ وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں، کیونکہ ہڑتال کا خاتمہ ہی مسائل کے حل اور ادارے کی ترقی کے لیے بہتر راستہ ہے۔