حیدرآباد: تلنگانہ حکومت کے مشیر اور کانگریس کے سینئر رہنما محمد علی شبیر نے پیر کے روز جوبلی ہلز کے ووٹروں سے اپیل کی کہ وہ 11 نومبر کو ہونے والے ضمنی انتخاب میں کانگریس امیدوار نوین یادو کو ووٹ دیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتخاب شمولیتی طرزِ حکومت اور عوامی احتساب کا امتحان ہے۔
جوبلی ہلز کا ووٹ، طرزِ حکومت پر ریفرنڈم | Jubilee Hills Election
محمد علی شبیر نے کہا کہ یہ مقابلہ ’’تجدید اور تنزلی‘‘ کے درمیان ایک انتخاب ہے۔ ان کے مطابق نتیجہ یہ ظاہر کرے گا کہ آیا حیدرآباد کا شہری طبقہ فلاحی پالیسیوں کو جاری رکھنا چاہتا ہے یا پھر وقتی سیاست کی طرف لوٹنا چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی کی قیادت میں کانگریس حکومت نے اداروں پر عوامی اعتماد بحال کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ ’’2023 میں عوام نے کانگریس کو موقع دیا تھا اور اب وہ مینڈیٹ عملی کاموں میں نظر آ رہا ہے۔ نئے پروفیشنل کالجوں سے لے کر اقلیتی خواتین کی بااختیاری تک، تبدیلی کے نتائج سامنے آ رہے ہیں۔‘‘
مرکزیت سے دور، مکالمہ پر مبنی سیاست | Jubilee Hills Election
انہوں نے کہا کہ تلنگانہ اب مرکزیت اور سیاسی تکبر سے دور جا رہا ہے۔ ’’یہ انتخاب کسی ایک نشست کا نہیں بلکہ اس سوال کا ہے کہ حیدرآباد کس قسم کی سیاست چاہتا ہے۔ نوین یادو ایک ایسی نسل کی نمائندگی کرتے ہیں جو مکالمے پر یقین رکھتی ہے، غلبے پر نہیں۔‘‘
شبیر علی نے کہا کہ چھوٹے امیدواروں کو ووٹ دینے سے مینڈیٹ تقسیم ہو سکتا ہے جس سے وہ قوتیں واپس آ سکتی ہیں جنہیں عوام نے پہلے مسترد کیا تھا۔ ان کے مطابق کانگریس حکومت نے سول سوسائٹی، کاروباری طبقے اور طلبہ تنظیموں کے ساتھ رابطہ بحال کر کے عوامی شمولیت کو مضبوط بنایا ہے۔
جوبلی ہلز کی نمائندگی میں تنوع ضروری | Jubilee Hills Election
محمد علی شبیر نے کہا کہ ’’جوبلی ہلز تلنگانہ کے تنوع کی علامت ہے، جہاں گيٹڈ کالونیز کے ساتھ بستیاں اور پیشہ ور طبقے کے ساتھ یومیہ مزدور بستے ہیں۔ کانگریس کی کامیابی کا مطلب یہ ہوگا کہ ہر طبقے کی آواز سنی جائے گی، صرف مراعات یافتہ طبقے کی نہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ووٹرز کو اپوزیشن کے وعدوں کو ان کی سابقہ کارکردگی سے پرکھنا چاہیے۔ ماضی کی حکومتیں رہائش، روزگار اور ٹرانسپورٹ کے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہیں۔ ’’اس بار عوام نعرے یا وقتی لالچ میں نہیں آئیں گے، بلکہ احتساب کو ترجیح دیں گے۔‘‘
تبدیلی کے حق میں ووٹ دینے کی اپیل | Jubilee Hills Election
انہوں نے نوجوانوں اور خواتین سے زیادہ تعداد میں ووٹ ڈالنے کی اپیل کی۔ ان کے مطابق ہر ووٹ حیدرآباد کی سمت کا تعین کرے گا۔ ’’یہ فیصلہ کرے گا کہ شہر اعتماد کے ساتھ آگے بڑھے گا یا دوبارہ انتشار کی طرف جائے گا۔ اپنا ووٹ بہتر طرزِ حکمرانی اور شمولیتی ترقی کے لیے استعمال کریں،‘‘ انہوں نے کہا۔
