حیدرآباد: مرکزی حکومت ملک کے تعلیمی نظام میں ایک بڑی اصلاح کی تیاری کر رہی ہے۔ تیزی سے ترقی کرتی ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم آہنگی کے لیے، سینٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (CBSE) نے فیصلہ کیا ہے کہ اب مصنوعی ذہانت (آرٹیفشل انٹلیجنس) کے اسباق تیسری جماعت سے ہی پڑھائے جائیں گے۔ یہ نیا نصاب تعلیمی سال 2026–27 سے ملک بھر کے تقریباً 31,000 سی بی ایس ای سے وابستہ اسکولوں میں نافذ ہوگا۔
ابتدائی تعلیم میں ٹیکنالوجی کا فروغ | CBSE AI Education
اس اقدام کا مقصد کم عمر طلبہ میں مصنوعی ذہانت سے متعلق ابتدائی آگاہی پیدا کرنا ہے۔ اس سے طلبہ نہ صرف زبان اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیتیں بہتر کریں گے بلکہ جدید ٹیکنالوجی سے بھی واقف ہوں گے۔ نصاب میں چیٹ بوٹس، لینگویج ماڈلز اور جنریٹیو اے آئی جیسے موضوعات شامل کیے جائیں گے۔
حکام کے مطابق، تیسری جماعت کے طلبہ بنیادی اے آئی تصورات سے آغاز کریں گے، جبکہ چھٹی جماعت سے اسے ایک مہارت کے مضمون کے طور پر متعارف کرایا جائے گا۔ اس طرح طلبہ تدریجی طور پر عملی سیکھنے کی طرف بڑھیں گے۔
اساتذہ کی تربیت اور عملی نفاذ | CBSE AI Education
مرکزی تعلیمی سکریٹری سنجے کمار کے مطابق حکومت کا مقصد ہے کہ طلبہ میں کم عمری سے ہی ٹیکنالوجی کا شعور پیدا کیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک پائلٹ منصوبہ پہلے ہی جاری ہے، جس میں اساتذہ اے آئی ٹولز استعمال کر کے تدریسی نتائج کا جائزہ لے رہے ہیں۔
وزارت جلد ہی تقریباً ایک کروڑ اساتذہ کے لیے تربیتی پروگرام شروع کرے گی تاکہ وہ مصنوعی ذہانت کو مؤثر طریقے سے تدریس میں استعمال کر سکیں۔ اس سے نہ صرف اساتذہ کو نئی ڈیجیٹل مہارتیں حاصل ہوں گی بلکہ طلبہ کے لیے بہتر سیکھنے کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ حکومت کو یقین ہے کہ یہ اصلاحات کلاس رومز کو جدید بنائیں گی اور طلبہ کو ٹیکنالوجی پر مبنی مستقبل کے لیے تیار کریں گی۔
