Read in English  
       
Electoral Balance

حیدرآباد: قانون ساز کونسل کے چیئرمین گُٹّہ سکھیندر ریڈی نے حد بندی کے معاملے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا کہ صرف آبادی کی بنیاد پر نشستوں کی تقسیم جنوبی ریاستوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کا ماڈل سیاسی عدم توازن پیدا کرے گا اور نمائندگی کے اصولوں کو متاثر کرے گا۔

انہوں نے نلگنڈہ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے مرکز کے مجوزہ طریقہ کار پر تنقید کی۔ مزید برآں، ان کا کہنا تھا کہ نشستوں میں 50 فیصد اضافہ اگر صرف آبادی کے تناسب سے کیا گیا تو مختلف ریاستوں کے درمیان فرق مزید بڑھ جائے گا۔

گُٹّہ نے کہا کہ کئی ریاستوں نے ایک متوازن فارمولہ تجویز کیا ہے جس میں آبادی کے ساتھ جی ایس ٹی شراکت کو بھی شامل کیا جائے۔ اس طرح، ان کے مطابق، ایک ہائبرڈ ماڈل زیادہ منصفانہ نتائج فراہم کر سکتا ہے۔

نمائندگی پر اثرات اور تجاویز | Electoral Balance

انہوں نے کہا کہ خواتین ریزرویشن اور حد بندی دو الگ معاملات ہیں اور انہیں علیحدہ طور پر نافذ کیا جانا چاہیے۔ مزید یہ کہ کئی ریاستیں بھی یہی مطالبہ کر رہی ہیں کہ دونوں امور کو آپس میں نہ جوڑا جائے۔

اسی دوران انہوں نے خبردار کیا کہ ان معاملات کو یکجا کرنے سے غیر ضروری الجھن پیدا ہو رہی ہے۔ لہٰذا مرکز کو چاہیے کہ وہ ریاستوں کے خدشات کو سنجیدگی سے لے اور متبادل تجاویز پر غور کرے۔

انتخابی اصلاحات اور خدشات | Electoral Balance

گُٹّہ سکھیندر ریڈی نے بیک وقت انتخابات کی تجویز پر بھی تبصرہ کیا اور کہا کہ اس سے مختلف ریاستوں میں الگ الگ وقت پر انتخابات ہونے کا امکان بڑھ سکتا ہے۔ مزید برآں، انہوں نے انتخابی عمل میں بے قابو مالی اثر و رسوخ پر بھی تشویش ظاہر کی۔

انہوں نے کہا کہ اگر پیسے کے اثر کو محدود نہ کیا گیا تو عام شہریوں کے لیے انتخابات میں حصہ لینا مشکل ہو جائے گا۔ اسی لیے انہوں نے جمہوری عمل کو مضبوط بنانے کے لیے فوری اصلاحات پر زور دیا۔

یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ حد بندی کا مسئلہ صرف نشستوں کی تقسیم تک محدود نہیں بلکہ اس کا تعلق جمہوری توازن اور سیاسی انصاف سے بھی ہے۔ لہٰذا ایک جامع اور منصفانہ پالیسی ہی اس تنازع کا مؤثر حل فراہم کر سکتی ہے۔