حیدرآباد: بی آر ایس کے ورکنگ صدر کے ٹی راما راؤ نے بدھ کے روز وزیرِاعلیٰ اے ریونت ریڈی کو حیدرآباد کی ترقی پر عوامی مباحثے کا چیلنج دیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت اپنے دو سالہ دور میں شہر کی ترقی میں مکمل ناکام رہی ہے۔
جوبلی ہلز پروگریس رپورٹ جاری کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ بی آر ایس اپنی دس سالہ کارکردگی کا تقابل کانگریس کے دو سالہ دور سے کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اگر ریونت ریڈی میں حوصلہ ہے تو وقت، جگہ اور زبان وہی طے کریں ،چاہے کمانڈ کنٹرول، گاندھی بھون یا اسمبلی ہو۔‘‘
بی آر ایس کی کارکردگی بمقابلہ کانگریس کی ناکامی – Hyderabad Development
کے ٹی آر نے بی آر ایس دور کے ترقیاتی منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی حکومت کے دوران 42 فلائی اوورز، انڈرپاسز، سوچھ حیدرآباد پروگرام اور یومیہ 7.5 میٹرک ٹن کچرے کی صفائی جیسے اقدامات کیے گئے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس حکومت نے تمام بڑے انفراسٹرکچر منصوبے روک دیے اور شہری خدمات کو نظرانداز کیا۔ ’’دو سال میں نیا انفراسٹرکچر کہاں ہے؟ کیا ایک سڑک بھی بنی، میٹرو بڑھی، یا نئی ایل ای ڈی لائٹس لگیں؟‘‘ انہوں نے سوال کیا۔
کے ٹی آر نے حکومت پر بڑھتے جرائم اور شہر کی گرتی حالت کا بھی الزام عائد کیا۔
سیاسی جوابی حملہ اور عوام سے اپیل – Hyderabad Development
کے ٹی آر نے کہا کہ کانگریس اور بی جے پی نے موقع پرستانہ اتحاد کیا ہے، جو ریاست کے مفاد کے خلاف ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس رہنماؤں کے بعض بیانات مذہبی اقلیتوں کے جذبات کو مجروح کرتے ہیں، اور ریونت ریڈی سے معافی کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے جوبلی ہلز کے عوام سے اپیل کی کہ وہ کارکردگی کی بنیاد پر فیصلہ کریں۔ کے ٹی آر نے کہا’’بی آر ایس نے کام کیا، کانگریس نے وعدے۔ عوام 11 نومبر کو فیصلہ سنا دیں گے،‘‘ ۔
