حیدرآباد ۔ ملکاجگری کی ایک عدالت نے پوکسو ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں بنڈی بھگیرتھ کو عبوری ضمانت منظور کر لی ہے۔ یہ حکم ایسے وقت میں جاری کیا گیا جب وہ ایک نوجوان خاتون کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کے الزامات کے سلسلے میں عدالتی تحویل میں تھے۔
رپورٹس کے مطابق بھگیرتھ اپنی گرفتاری کے بعد کئی ہفتوں سے جیل میں قید تھے۔ ان کے وکلا نے عدالت سے عبوری ضمانت کی درخواست کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں انجینئرنگ کے امتحانات میں شرکت کرنا ہے۔
عدالت میں دلائل اور ضمانت کا فیصلہ | Interim Bail
عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد بھگیرتھ کو 26 جون تک عبوری ضمانت دے دی۔ اس فیصلے کے تحت انہیں عدالتی تحویل سے عارضی راحت حاصل ہوئی ہے تاکہ وہ اپنے تعلیمی معاملات مکمل کر سکیں۔
مزید برآں عدالت نے مقررہ مدت تک کے لیے یہ ریلیف فراہم کیا، جبکہ مقدمے کی قانونی کارروائی اپنے معمول کے مطابق جاری رہے گی۔ اس فیصلے کے بعد کیس ایک بار پھر عوامی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
مقدمے کا پس منظر | Interim Bail
پولیس نے گزشتہ ماہ بھگیرتھ کے خلاف پوکسو ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ مقدمے کے اندراج کے بعد مختلف تنظیموں اور گروپوں نے ان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق بھگیرتھ کئی دنوں تک منظر عام سے غائب رہے، تاہم بعد ازاں انہوں نے 17 مئی کو پولیس کے سامنے خودسپردگی اختیار کر لی۔ اس کے بعد پیٹ بشیرآباد پولیس نے انہیں مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا۔
عدالتی تحویل سے عبوری رہائی | Interim Bail
میڈچل کی عدالت نے انہیں 14 دن کی عدالتی تحویل میں بھیج دیا تھا، جس کے بعد حکام نے انہیں جیل منتقل کر دیا۔ اس سے قبل اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم کے عہدیداروں نے ان سے 2 گھنٹے سے زائد وقت تک پوچھ گچھ بھی کی تھی۔
بھگیرتھ نے ایک ماہ سے زیادہ عرصہ حراست میں گزارا، تاہم اب انہیں 26 جون تک عبوری ضمانت مل گئی ہے۔ اس دوران مقدمے کی مزید سماعت اور قانونی عمل متعلقہ عدالت میں جاری رہے گا۔
