Read in English  
       
Wage Revision

حیدرآباد ۔ تلنگانہ حکومت نے ریاست میں مزدوروں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کم از کم اجرتوں میں نظرثانی کے عمل کو تیز کر دیا ہے۔ نائب وزیر اعلی بھٹی وکرامارکا نے پیر کے روز اس عمل کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ حکومت سائنسی بنیادوں پر اجرتوں کے تعین کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت مزدور دوست پالیسیوں کے ذریعے لاکھوں کارکنوں کو فائدہ پہنچانا چاہتی ہے۔

اس سلسلے میں حیدرآباد کے مہاتما جیوتی راؤ پھولے پرجا بھون میں کابینہ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزراء گڈم وویک وینکٹ سوامی، پونم پربھاکر اور ددّیلا سریدھر بابو نے شرکت کی۔ مزید برآں راجیہ سبھا رکن ویم نریندر ریڈی اور اعلیٰ حکام بھی اجلاس میں موجود رہے۔

دیگر ریاستوں کے ماڈلز کا جائزہ | Wage Revision

بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ تلنگانہ حکومت ریاست میں کم از کم اجرتوں کے لیے ایک سائنسی اور مؤثر نظام نافذ کرنا چاہتی ہے۔ اسی لیے کابینہ ذیلی کمیٹی نے ملک کی مختلف بڑی ریاستوں میں رائج اجرتی ماڈلز کا تفصیلی جائزہ لیا۔ حکومت کا ماننا ہے کہ بہتر ماڈلز اختیار کرنے سے مزدوروں کی معاشی حالت مضبوط ہو سکتی ہے۔

اجلاس کے دوران مرکزی حکومت کی جانب سے مجوزہ نئے لیبر کوڈ کے ممکنہ اثرات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ حکام کے مطابق کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ اجرتوں کی نظرثانی مزدوروں کی حقیقی ضروریات کے مطابق ہونی چاہیے۔ علاوہ ازیں بڑھتی مہنگائی اور روزمرہ اخراجات کو بھی اس عمل میں اہم بنیاد بنایا جائے گا۔

کمیٹی نے ملک میں دستیاب چند بہترین اجرتی نظاموں کو اپنانے کی حمایت بھی کی۔ حکام کا کہنا تھا کہ مزدوروں کی معاشی ضروریات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، لہٰذا موجودہ حالات کے مطابق اجرتوں میں تبدیلی ناگزیر ہے۔

مزدور دوست ریاست بنانے پر زور | Wage Revision

بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ حکومت تلنگانہ کو مزدور دوست ریاست بنانے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حتمی فیصلہ لینے سے پہلے مختلف طبقات کی آراء حاصل کی جائیں گی تاکہ ایسا نظام تیار کیا جا سکے جو تمام شعبوں کے مزدوروں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام منظم اور غیر منظم شعبوں سے وابستہ لاکھوں مزدوروں کے لیے مددگار ثابت ہوگا۔ حکومت کو امید ہے کہ اجرتوں میں مناسب تبدیلی سے مزدوروں کے معیار زندگی میں بہتری آئے گی اور انہیں معاشی تحفظ حاصل ہوگا۔

اسی دوران مزدور تنظیموں اور ماہرین کی جانب سے بھی اس عمل پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ کئی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر حکومت عملی اقدامات کرتی ہے تو اس سے ریاست میں مزدوروں کے حقوق مزید مضبوط ہوں گے اور معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔