حیدرآباد: وزیر پونگلیٹی سرینواس ریڈی نے کہا کہ میڈارم کے کاموں میں نہ وضاحت ہے نہ نظم۔ ان کے مطابق یہ طے ہی نہیں کہ کون سا افسر کس ذمہ داری کا مالک ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ ان کے یہ ریمارکس جمعہ کو دورانِ معائنہ سامنے آئے۔
وزرا سرینواس ریڈی اور سیتکا، ساتھ میں وزیر اعلیٰ کے پرسنل سیکریٹری سرینواس راجولو، میڈارم پہنچے جہاں قبائلی پجاریوں نے گڈّیلو میں روایتی طریقے سے استقبال کیا۔ ٹیم نے بعد میں مندر کی بحالی کے کام کا جائزہ لیا اور سست رفتاری پر ناراضی ظاہر کی۔
کاموں کی رفتار اور نئی بے ضابطگیوں کا انکشاف | Medaram Review
سرینواس ریڈی نے نئے پتھری مجسموں کا معائنہ کیا اور شبہ ظاہر کیا کہ یہ منصوبہ وقت پر مکمل نہیں ہوگا۔ انہوں نے گڈّیلو کے پیچھے آئی ٹی ڈی اے عمارت کے انہدام کو بھی نوٹ کیا۔ وہاں کچھ نجی مکان زیر تعمیر دیکھے گئے۔ انہوں نے افسران سے پوچھا کہ یہ تعمیرات کس کی ملکیت ہیں۔
معائنہ کے دوران ایک موقع پر ایکزیکٹیو انجینئر اجے برہم ہوگئے اور اسٹاف کو فوراً تمام افسران کو طلب کرنے کی ہدایت دی۔ اس صورتحال سے کاموں کی بدانتظامی مزید سامنے آئی۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ انتظامی سطح پر رابطے کے فقدان نے رفتار پر اثر ڈالا ہے۔
ہنگامی احکامات اور سخت انتباہ | Medaram Review
ریڈی نے حکم دیا کہ تمام ٹیمیں چوبیس گھنٹے کام کریں اور زیرِ التوا امور طے شدہ وقت کے اندر مکمل کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مزید تاخیر ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے افسران کو سخت ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ہدایت کی۔
حکام کے مطابق اب منصوبے کے ہر مرحلے کی روزانہ نگرانی ہوگی۔ ٹیموں کو بتایا گیا ہے کہ کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تیز رفتاری کے بغیر میڈارم کے انتظامات متاثر ہو سکتے ہیں، اس لیے فوری اصلاحات ضروری ہیں۔
LIVE: Minister Ponguleti Srinivasa Reddy garu inspects Medaram Jatara permanent development works https://t.co/HeV5pWZQoR
— Telangana Congress (@INCTelangana) December 12, 2025
