حیدرآباد ۔ حیدرآباد نارکوٹکس انفورسمنٹ وِنگ (ایچ نیو) اور چادر گھاٹ پولیس نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے 1 اکتوبر کو ایک مقامی Drug Peddler اور ایک ٹرانسپورٹر کو گرفتار کرلیا۔ پولیس نے ان کے قبضے سے 50 گرام ایم ڈی ایم اے، 830 روپئے نقد رقم اور دو موبائل فون برآمد کئے۔ برآمدہ منشیات اور دیگر اشیاء کی مجموعی مالیت 5.5 لاکھ روپئے بتائی گئی۔
پولیس کے مطابق گرفتار شدگان کی شناخت محمد عثمان عرف ابّو (33) ساکن بندلہ گوڑہ، حیدرآباد اور راہل (23) ساکن کیرالا حال مقیم بنگلورو کے طور پر کی گئی۔ دونوں کے خلاف چادر گھاٹ پولیس اسٹیشن میں این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
بیرون ملک سے سپلائی کا انکشاف
تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ عثمان نے ایس ایس سی کے بعد تعلیم چھوڑ دی تھی اور مالی مشکلات کے باعث منشیات فروشی میں ملوث ہوا۔ اس نے انسٹاگرام کے ذریعے کیرالا کے رہنے والے اشون داس رمناتھ سے رابطہ کیا جو فی الحال بحرین میں مقیم ہے۔ اسی کے ذریعے وہ بنگلورو کے راہل سے ایم ڈی ایم اے خریدنے لگا۔ عثمان ہر گرام 2,000 روپئے میں خریدتا اور حیدرآباد میں 8,000 تا 10,000 روپئے میں فروخت کرتا تھا۔ اس طرح وہ بھاری منافع کماتے ہوئے عیاشی کی زندگی گزار رہا تھا۔
راہل نے 2024 میں بی سی اے مکمل کیا اور کچھ عرصہ ایک ریسٹورنٹ میں کام کیا، لیکن چند ماہ بعد نوکری چھوڑ دی۔ بعد ازاں وہ اشون کے لئے منشیات ٹرانسپورٹ کرنے لگا۔ واٹس ایپ ہدایات کے مطابق وہ غیر ملکی سپلائرز کے ذریعے تیار کئے گئے خفیہ مقامات سے منشیات وصول کر کے عثمان کو پہنچاتا اور اس کے عوض کمیشن حاصل کرتا۔
پولیس نے بتایا کہ اشون بحرین سے اس پورے نیٹ ورک کو کنٹرول کر رہا تھا اور آن لائن ادائیگیوں اور کیو آر کوڈ کے ذریعے رقم منتقل کی جاتی تھی۔
پولیس کی عوام سے اپیل
Drug Peddler کی گرفتاری کے بعد حکام نے انتباہ دیا کہ پڑھے لکھے نوجوان اور بے روزگار گریجویٹس آسان پیسہ کمانے کی خاطر منشیات کے دھندے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ پولیس نے والدین سے کہا کہ وہ اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں۔ مزید برآں عوام سے اپیل کی گئی کہ منشیات کے متعلق کسی بھی اطلاع کے لئے ایچ نیو کو 8712661601 پر اطلاع دیں۔
پولیس نے بتایا کہ یہ کارروائی انسپکٹر جی۔ ایس۔ ڈینیئل، سب انسپکٹر سی۔ وینکٹا رملو اور ایچ نیو کی ٹیم نے انجام دی۔ انہیں چادر گھاٹ کے ایس ایچ او برہما مراری کاسنی اور ان کے عملے نے تعاون فراہم کیا۔
