Read in English  
       
GST Reform

حیدرآباد: بھارت میں 22 ستمبر سے اشیاء و خدمات ٹیکس (GST) کے نظام میں 2017 کے بعد سب سے بڑی اصلاح کی جا رہی ہے۔GST Reformکے اس نئے ڈھانچے کے تحت گھریلو اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی کیونکہ ضروری اشیاء، صحت کی سہولتوں، سیمنٹ اور چھوٹی گاڑیوں پر ٹیکس کی شرح گھٹا دی گئی ہے جبکہ لگژری اشیاء اور مضر صحت مصنوعات پر 40 فیصد کی بلند ترین شرح لاگو ہوگی۔

بنیادی اشیاء اور صحت کی سہولتوں پر ریلیف

چپاتی، پراٹھا، پنیر، پیزا بریڈ، کھاکھرا اور UHT دودھ اب بالکل ٹیکس سے مستثنیٰ ہوں گے۔ مکھن، گھی، بسکٹ، جوس، مٹھائیاں، کارن فلیکس، آئس کریم اور نمکین پر اب صرف 5 فیصد جی ایس ٹی عائد ہوگا جو پہلے 18 فیصد تھا۔

صابن، شیمپو، ٹوتھ پیسٹ، برش اور بالوں کے تیل جیسے ٹوائلٹری آئٹمز پر بھی 5 فیصد جی ایس ٹی لگے گا۔ باورچی خانے کے برتن، فیڈنگ بوتلیں، سائیکلیں اور بانس کا فرنیچر بھی اب 5 فیصد کی شرح پر آجائیں گے۔ اسٹیشنری اشیاء مثلاً نوٹ بکس، پنسل، نقشے اور کرایونز پر کوئی ٹیکس نہیں ہوگا۔

طبی مصنوعات پر بھی بڑی رعایت دی گئی ہے۔ میڈیکل آکسیجن، تھرمامیٹر، ڈائیگناسٹک کٹس، چشمے اور جان بچانے والی ادویات اب 5 فیصد یا صفر شرح پر دستیاب ہوں گی۔ زندگی اور صحت کے بیمے کے پریمیم پر بھی جی ایس ٹی ختم کر دیا گیا ہے۔

سیمنٹ، چھوٹی گاڑیاں اور زرعی آلات سستے

سیمنٹ پر ٹیکس کی شرح 28 فیصد سے گھٹا کر 18 فیصد کر دی گئی ہے۔ 350 سی سی سے کم انجن والی موٹرسائیکلیں، چھوٹی ہائبرڈ کاریں اور آٹو پرزے بھی اب 18 فیصد والے زمرے میں ہوں گے۔ کسانوں کے لیے زرعی مشینری، کھاد کے اجزاء، حیاتیاتی کیڑے مار ادویات اور ٹریکٹر کے پرزہ جات پر صرف 5 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔

لگژری اور مضر صحت اشیاء مہنگی

جی ایس ٹی کونسل نے 40 فیصد کا نیا زمرہ لگژری اشیاء اور نقصان دہ مصنوعات کے لیے مخصوص کیا ہے۔ اس میں سافٹ ڈرنکس اور کیفینیٹڈ مشروبات شامل ہیں۔ بڑی کاریں اور SUV گاڑیاں، 350 سی سی سے زائد انجن والی موٹرسائیکلیں، ریسنگ کاریں، یاٹ اور ذاتی طیارے بھی اسی میں شامل ہیں۔

تمباکو اور اس سے جڑی مصنوعات پر بھی 40 فیصد ٹیکس لگے گا جب اضافی سیس ختم ہو جائے گا۔ کیسینو، آن لائن گیمنگ، گھڑ دوڑ اور انڈین پریمیئر لیگ کے ٹکٹوں پر بھی یہی شرح لاگو ہوگی۔

مرکز کا بیان

وزیر اعظم نریندر مودی نے اس تبدیلی کو عوام دوست قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ GST Reformگھروں، کسانوں، چھوٹے اور درمیانے کاروباروں، خواتین اور نوجوانوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی، مانگ میں اضافہ کرے گی اور کاروباری اداروں کے لیے ضابطوں کو آسان بنائے گی۔