حیدرآباد: تلنگانہ میں ویجیلنس اینڈ انفورسمنٹ ٹیموں نے جمعہ کے روز ریاست گیر چھاپوں کے دوران چاول کی ملوں، کانکنی اور ٹرانسپورٹ سرگرمیوں میں بڑی بے ضابطگیوں کو بے نقاب کیا۔ سدّی پیٹ ضلع کے آر سی پورم یونٹ نے ایم ایم فوڈ پروسیسنگ پرابوائلڈ رائس مل کا معائنہ کیا، جہاں 6,674 کوئنٹل کسٹم ملڈ رائس (CMR) غیر قانونی طور پر ذخیرہ کیا گیا تھا۔
یہ چاول 2024–25 کے سرکاری راشن سائیکل کے لیے مختص تھا، لیکن اسے غیر قانونی طریقے سے منتقل کیا جا رہا تھا۔ ضبط شدہ چاول کی مالیت تقریباً 1.54 کروڑ روپئے بتائی گئی ہے۔ ویجیلنس ڈائریکٹر جنرل شکھا گوئل نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے محکمہ رسدات کو فوری کارروائی کی ہدایت دی۔
کانکنی اور ٹرانسپورٹ میں بھاری جرمانے | Telangana Vigilance Raids Rice Mining Transport
سوریہ پیٹ ضلع میں نلگنڈہ یونٹ نے مائننگ حکام کے ساتھ مشترکہ چھاپہ مار کارروائی کے دوران وی ایم این آر اسٹون کرشر کمپنی میں 3,252 میٹرک ٹن غیر رپورٹ شدہ اسٹاک دریافت کیا۔ اس خلاف ورزی پر کمپنی پر 2.53 لاکھ روپئے سیگنیوریج جرمانہ عائد کیا گیا۔
دوسری جانب، حیدرآباد یونٹ-1 نے محکمہ ٹرانسپورٹ، کانکنی اور کمرشل ٹیکس افسران کے ساتھ پٹن چیرو اور موتنگی ٹول گیٹس پر چیکنگ کی۔ یہ کارروائیاں جمعرات اور جمعہ کو جاری رہیں، جن کے دوران دس گاڑیوں پر موٹر وہیکل ایکٹ کے تحت 5.18 لاکھ روپئے کے جرمانے عائد کیے گئے۔
اس کے علاوہ، دو گاڑیاں مائننگ ایکٹ اور دو گاڑیاں جی ایس ٹی قوانین کی خلاف ورزی کی مرتکب پائی گئیں، جن پر بالترتیب 7.28 لاکھ روپئے جرمانہ لگایا گیا۔
دیگر اضلاع میں بھی کارروائیاں جاری
اسی نوعیت کی کارروائی کریم نگر تا پیڈاپلی روٹ پر بھی کی گئی، جہاں محکمہ روڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے اشتراک سے 18 مقدمات درج کیے گئے اور 6.5 لاکھ روپئے کے جرمانے وصول کیے گئے۔
حکام نے اشارہ دیا ہے کہ اس طرز کی نگرانی آئندہ دنوں میں مزید سخت کی جائے گی تاکہ ریاست بھر میں بدعنوانی اور بے ضابطگیوں پر قابو پایا جا سکے۔
