حیدرآباد ۔ ونستھلی پورم میں ایک ہولناک سڑک حادثے میں دو انجینئرنگ طلبہ جان کی بازی ہار گئے جب ایک تیز رفتار کار نے ان کی موٹر سائیکل کو ٹکر مار دی۔ تاہم پولیس کے مطابق یہ واقعہ ہستناپورم کے قریب پیش آیا۔ مزید یہ کہ حادثے نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔
پس منظر کے طور پر پولیس نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والوں کی شناخت کے شیوا (19) اور سندیپ جوئل (19) کے طور پر ہوئی ہے۔ دریں اثنا دونوں مہاویر انجینئرنگ کالج کے دوسرے سال کے طلبہ تھے۔ لہٰذا یہ حادثہ نوجوان طلبہ کی قیمتی جانوں کے ضیاع کا باعث بنا۔
حادثے کی تفصیلات اور پولیس کارروائی | Car Accident
پولیس کے مطابق دونوں طلبہ موٹر سائیکل پر جا رہے تھے کہ پیچھے سے آنے والی ایک ہونڈا سٹی کار نے تیز رفتاری کے ساتھ انہیں ٹکر مار دی۔ اسی طرح تصادم کے بعد کار بے قابو ہو گئی اور ایک راہگیر، سری دھر (23)، کو بھی اپنی زد میں لے لیا۔ مزید برآں کار کئی بار پلٹی کھانے کے بعد الٹی حالت میں رک گئی۔
حادثے کے نتیجے میں دونوں طلبہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ تاہم زخمی راہگیر کو فوری طور پر ایک نجی ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کا علاج جاری ہے۔ نتیجتاً اس واقعے نے مقامی افراد کو شدید صدمے میں مبتلا کر دیا۔
پولیس نے بتایا کہ کار کے ڈرائیور کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ نشے کی حالت میں گاڑی چلا رہا تھا۔ لہٰذا اس پہلو سے بھی تفتیش جاری ہے۔
سڑک حفاظت پر بڑھتے خدشات | Car Accident
یہ واقعہ شہر میں سڑک حفاظت کے حوالے سے سنجیدہ سوالات کھڑے کرتا ہے۔ مزید برآں لاپرواہ اور نشے میں ڈرائیونگ کو مسلسل خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم حکام کے مطابق ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔
آخر میں یہ واضح کیا گیا کہ اس طرح کے حادثات نہ صرف انسانی جانوں کا نقصان کرتے ہیں بلکہ شہری نظام پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ نتیجتاً سڑک حفاظت کے اصولوں پر عمل درآمد کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔
