حیدرآباد: تلنگانہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ پولاورم نلا ملّا ساگر منصوبے کے خلاف سپریم کورٹ میں اعتراضات داخل کرے گی۔ افسران کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ ریاست کے کچھ حصوں کو زیرِ آب لانے کا خدشہ پیدا کرتا ہے۔ ان کے مطابق اس کے ڈیزائن میں ایسی تبدیلیاں شامل ہیں جو بین الریاستی معاہدوں کے خلاف جاتی ہیں۔ حکام نے یہ بھی نشاندہی کی کہ آندھرا پردیش نے منصوبے کا نام بدل دیا مگر بنیادی خاکہ وہی رکھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ریاست کو سب سے زیادہ تشویش بنکاچرلہ کمپوننٹ سے ہے۔ انتباہ دیا جا رہا ہے کہ کھمم، بھدرادری کوتہ گوڑم اور ملگُ کے کئی دیہات متاثر ہو سکتے ہیں۔ بہت سی زرعی زمینیں بھی ممکنہ طور پر زیرِ آب آ سکتی ہیں۔ حکومت کے مطابق خطرات واضح ہیں اور فوری قانونی مداخلت ناگزیر ہو چکی ہے۔
قانونی حکمت عملی اور تیاریوں کا آغاز – Court Objections
معروف وکیل ابھیشیک منو سنگھوی اس مقدمے میں تلنگانہ کا موقف پیش کریں گے۔ ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ معاملے میں تکنیکی نکات اہم ہیں اور انہیں مضبوط شواہد کے ساتھ عدالت میں رکھا جائے گا۔ افسران نے بتایا کہ بنکاچرلہ کمپوننٹ کے تکنیکی پہلو مقدمے کا مرکزی حصہ ہوں گے۔ حکمت عملی اس بنیاد پر تیار کی جا رہی ہے کہ عدالت کو منصوبے کے متاثرہ علاقوں کی مکمل تصویر پیش کی جا سکے۔
انتظامیہ کے مطابق یہ فیصلہ ریاستی سطح پر متعلقہ محکموں کے باہمی جائزے کے بعد لیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ مقامی آبادی کے خدشات بھی قانونی حکمت عملی میں شامل ہوں گے۔ اس کا مقصد جامع دلائل فراہم کرنا ہے تاکہ عدالت میں ریاست کی پوزیشن مضبوط ہو۔
اہم اجلاس اور آئندہ سماعت کی تیاری – Court Objections
پولاوارم-بناکاچرلہ معاملے پر ایک جائزہ اجلاس ہفتہ کو دوپہر میں تلنگانہ بھون، نئی دہلی میں ہوگا۔ اس کے بعد وزیر اتم کمار ریڈی اور سینئر افسران دوپہر 2 بج کر 30 منٹ پر سنگھوی سے ملاقات کریں گے۔ یہاں قانونی حکمت عملی کو حتمی شکل دی جائے گی اور تمام اعتراضات کی ترتیب طے ہوگی۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ ملاقات اہم مرحلہ ہے کیونکہ اسی میں آئندہ سماعت کی بنیاد رکھی جائے گی۔
ریاستی افسران کا ماننا ہے کہ منصوبے کے اثرات دور رس ہیں اور عدالت کو اس بارے میں مکمل آگاہی دینے کی ضرورت ہے۔ آئندہ سماعت سے قبل تمام تکنیکی اور قانونی نکات مرتب کیے جا رہے ہیں تاکہ ریاست کا موقف واضح اور مضبوط انداز میں پیش ہو سکے۔
