حیدرآباد ۔ تلنگانہ کے وزیر زراعت تُملّا ناگیشورا راو نے خریف 2026 کے لیے بیجوں کی دستیابی کا جائزہ لیتے ہوئے اعلیٰ معیار کے بیجوں کی فراہمی کو یقینی بنانے اور جعلی بیجوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے سکریٹریٹ میں منعقدہ اجلاس میں محکمہ زراعت، سیڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن اور بیج کمپنیوں کے نمائندوں کے ساتھ تفصیلی جائزہ لیا۔ مزید برآں، اجلاس میں فصل وار اور کمپنی وار بیجوں کی دستیابی کا بھی جائزہ لیا گیا۔
پس منظر کے طور پر، وزیر نے واضح کیا کہ کسانوں تک صرف اعلیٰ معیار اور زیادہ پیداوار دینے والے بیج پہنچنے چاہئیں۔ تاہم، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے ساتھ معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ مزید یہ کہ انہوں نے بیجوں کی جانچ کے لیے سخت نگرانی کی ہدایت بھی دی۔
حکام نے بتایا کہ خریف سیزن میں تقریباً 134.66 لاکھ ایکڑ رقبہ زیر کاشت آ سکتا ہے جس کے لیے 19.42 لاکھ کوئنٹل بیج درکار ہوں گے۔ تاہم، اس وقت ریاست میں 38.21 لاکھ کوئنٹل بیج دستیاب ہیں جو ضرورت سے تقریباً دوگنا ہیں۔ لہٰذا، بیجوں کی وافر دستیابی کسانوں کے اعتماد میں اضافہ کرے گی۔
بیجوں کی دستیابی اور حکمت عملی | Seed Supply Review
کپاس کی فصل کے لیے تقریباً 52 لاکھ ایکڑ کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جس کے لیے 104 لاکھ بیج پیکٹس درکار ہوں گے۔ مزید برآں، موجودہ ذخیرہ 212.11 لاکھ پیکٹس تک پہنچ چکا ہے جو طلب سے کہیں زیادہ ہے۔ اس لیے وزیر نے ہدایت دی کہ طلب کے مطابق ہائبرڈ بیجوں کو ترجیح دی جائے۔
انہوں نے کمپنیوں کو ہدایت دی کہ وہ بیجوں کی کوالٹی کو یقینی بنانے کے لیے لیبارٹری جانچ کو لازمی بنائیں۔ مزید یہ کہ بیجوں کی بروقت فراہمی کسانوں کے لیے انتہائی اہم قرار دی گئی ہے تاکہ بوائی کے سیزن میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔
جعلی بیجوں کے خلاف سخت اقدامات | Seed Supply Review
تُملّا ناگیشورا راو نے جعلی اور غیر معیاری بیجوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے کی ہدایت دی۔ مزید برآں، انہوں نے پولیس کے ساتھ تال میل بڑھا کر غیر قانونی پیداوار، نقل و حمل اور فروخت کو روکنے پر زور دیا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی اور ماضی میں ایسے معاملات میں لائسنس منسوخ کیے جا چکے ہیں۔ دریں اثنا، کمپنیوں کو ماہانہ اسٹاک رپورٹ پیش کرنے اور خود تصدیق شدہ بیجوں کے نقصانات برداشت کرنے کی ہدایت دی گئی۔
مزید یہ کہ غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے ضلع اور منڈل سطح پر خصوصی ٹاسک فورس ٹیمیں تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ، سرحدی علاقوں میں سخت نگرانی کی ہدایت دی گئی تاکہ غیر قانونی ایچ ٹی کپاس کے بیجوں اور ڈھیلے بیجوں کی نقل و حرکت کو روکا جا سکے۔
آخر میں، وزیر زراعت نے کہا کہ حکومت کسانوں کو معیاری بیج فراہم کرنے اور جعلی بیجوں کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کسانوں میں بیداری پروگرام چلانے اور بوائی سے پہلے بیجوں کی فراہمی کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا تاکہ زرعی پیداوار میں اضافہ ہو سکے۔
