Read in English  
       
Union govt aims for 4.3% fiscal deficit in FY 2026–27, targeting debt-to-GDP at 50% by FY 2030–31. Growth & spending aligned to goal.

حیدرآباد: مرکزی حکومت نے مالی سال 2026–27 کے لیے مالیاتی خسارہ 4.3 فیصد مقرر کیا ہے۔ وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے پارلیمنٹ میں پیش کردہ “میڈیم ٹرم فِسکل پالیسی اینڈ اسٹریٹیجی اسٹیٹمنٹ” میں اس ہدف کا اعلان کیا۔ یہ حکمت عملی مالی سال 2021–22 میں جاری کردہ مالیاتی استحکام کے نقشۂ راہ کا تسلسل ہے۔ مزید یہ کہ حکومت نے مالی سال 2030–31 تک قرض-برائے-جی ڈی پی تناسب کو 50±1 فیصد تک لانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس ساری حکمت عملی کا مرکزی نکتہ Fiscal Deficit کو کم کرنا ہے۔

مالی سال 2026–27 کے بجٹ تخمینوں میں مالیاتی خسارہ 2025–26 کے 4.5 فیصد سے کم ہوکر 4.3 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ یہ منصوبہ 2021–22 کے بجٹ میں طے شدہ ہدف کے مطابق ہے۔ اس مدت میں حکومت نے قرض-برائے-جی ڈی پی تناسب 55.6 فیصد رہنے کا اندازہ بھی پیش کیا ہے۔ نیز، Fiscal Deficit میں کمی بھی متوقع ہے۔

محصولات اور ٹیکس آمدنی | Fiscal Deficit Target FY 2026–27

حکومت نے مالی سال 2026–27 کے لیے آمدنی کا تخمینہ 35.33 لاکھ کروڑ روپۓ لگایا ہے، جو کہ گزشتہ سال کے نظرثانی شدہ تخمینوں کے مقابلے میں 5.7 فیصد زیادہ ہے۔ مزید یہ کہ خالص ٹیکس آمدنی 28.67 لاکھ کروڑ روپۓ اور غیر ٹیکس آمدنی 6.66 لاکھ کروڑ روپۓ تک پہنچنے کی امید ہے۔ مجموعی ٹیکس آمدنی میں 8 فیصد اضافہ متوقع ہے۔ اس کے نتیجے میں، یہ 44.04 لاکھ کروڑ روپۓ تک جا سکتی ہے۔ اس کا براہ راست اثر ملک کے Fiscal Deficit پر بھی پڑے گا۔

ریاستوں کو قابل تقسیم ٹیکس پول میں 41 فیصد حصہ بدستور دیا جائے گا، جیسا کہ سولہویں مالیاتی کمیشن نے سفارش کی تھی۔ اس کے مطابق، ریاستوں کو 15.26 لاکھ کروڑ روپۓ کی ٹیکس تقسیم متوقع ہے۔ اس کے علاوہ، مالیاتی کمیشن گرانٹس 1.4 لاکھ کروڑ روپۓ ہوں گی۔ مجموعی طور پر، ریاستوں کو منتقلی کی رقم 16.56 لاکھ کروڑ روپۓ ہوگی۔ تاہم، خسارہ کم کرنے کے لیے مرکز اور ریاستوں میں قریبی ہم آہنگی ضروری ہوگی۔ اس طرح، Fiscal Deficit کو کم کیا جا سکے گا۔

Union govt aims for 4.3% fiscal deficit in FY 2026–27, targeting debt-to-GDP at 50% by FY 2030–31. Growth & spending aligned to goal.

ترقی، سرمایہ کاری اور خسارے پر قابو | Fiscal Deficit Target FY 2026–27

حکومت نے مالی سال 2026–27 کے لیے کل اخراجات 53.47 لاکھ کروڑ روپۓ مقرر کیے ہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 7.7 فیصد زیادہ ہیں۔ اس میں سے 12.22 لاکھ کروڑ روپۓ سرمایہ جاتی اخراجات کے لیے مخصوص کیے گئے ہیں۔ مزید براں، ریاستوں کو دی جانے والی 2.0 لاکھ کروڑ روپۓ کی خصوصی امدادی قرضے بھی شامل ہیں۔ مؤثر سرمایہ جاتی اخراجات 17.15 لاکھ کروڑ روپۓ ہیں۔ اس طرح، یہ جی ڈی پی کا 4.4 فیصد بنتے ہیں۔ اس اخراجات کی پالیسی حکومت کے Fiscal Deficit کے ٹارگٹ سے منسلک ہے۔

نیشنل اسٹیٹسٹکس آفس کے مطابق، مالی سال 2025–26 میں حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو 7.4 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ سروسز سیکٹر میں 9.1 فیصد، جب کہ مینوفیکچرنگ اور تعمیراتی شعبوں میں 7 فیصد اضافہ متوقع ہے۔ مضبوط ترقی Fiscal Deficit پر مثبت اثر ڈالے گی اور مالی نظم و ضبط کو سہارا دے گی۔

نجی صارفین کی کھپت 61.5 فیصد کے ساتھ 2012 کے بعد بلند ترین سطح پر ہے۔ سرمایہ کاری کی رفتار مستحکم ہے۔ نیز، مجموعی مقررہ سرمایہ تشکیل جی ڈی پی کا 30 فیصد ہے۔ یہ سب عوامل مجموعی طور پر Fiscal Deficit کی پوزیشن کو بہتر بنا سکتے ہیں۔

برآمدات اور بیرونی سرمایہ کاری میں بھی مثبت رجحانات ہیں۔ مالی سال 2024–25 میں مجموعی برآمدات 825.3 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں۔ مزید براں، پہلے سات ماہ میں ایف ڈی آئی آمد 81.0 ارب ڈالر رہی، جو اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔ جاری کھاتہ خسارہ کم ہوکر 0.8 فیصد جی ڈی پی رہ گیا۔ یہ پچھلے سال کے 1.3 فیصد سے کم ہے۔ مجموعی معاشی بہتری سے ملک کا Fiscal Deficit مزید کم ہونا متوقع ہے۔