حیدرآباد: تلنگانہ کے ضلع ناگرکرنول کے قصبے کلواکرتی میں جمعرات کے روز ایک دردناک واقعہ پیش آیا، جہاں ایک خاتون نے مبینہ طور پر اپنے دو بچوں کو زہریلا کھانا کھلانے کے بعد خود بھی وہی کھا لیا۔ اس افسوسناک واقعے میں ماں اور بیٹی کی موت ہو گئی، جبکہ بیٹے کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
یہ واقعہ تلک نگر علاقے میں پیش آیا، جہاں پرسنّا چالیس برس اپنی تیرہ سالہ بیٹی میگھنا اور بیٹے اشریت کے ساتھ مقیم تھیں۔ اطلاعات کے مطابق اسی روز گھر میں نئے سال کی مناسبت سے کیک کاٹا گیا تھا اور ماحول بظاہر خوشگوار تھا۔
زہر آلود کھانے کا واقعہ | Family Tragedy
پولیس کے مطابق بعد ازاں پرسنّا نے پکے ہوئے چاول میں کیڑے مار دوا ملا کر پہلے بچوں کو کھلایا اور پھر خود بھی وہی غذا استعمال کی۔ کچھ ہی دیر بعد تینوں کی طبیعت بگڑ گئی۔ ماں اور بیٹی موقع پر ہی دم توڑ گئیں، جبکہ بیٹے کو تشویشناک حالت میں فوری طور پر علاج کے لیے منتقل کیا گیا۔
پولیس نے ماں اور بیٹی کی لاشوں کو سرکاری اسپتال منتقل کر دیا، جہاں پوسٹ مارٹم کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب اشریت کو ایک نجی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، جہاں وہ انتہائی نگہداشت میں زیر علاج ہے۔
ذہنی دباؤ کی کہانی | Family Tragedy
تحقیقات کے دوران پولیس نے بتایا کہ پرسنّا شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھیں۔ ان کے شوہر بھیم شیٹی پرکاش کا تقریباً چالیس دن قبل انتقال ہو گیا تھا، جس کے بعد وہ خود کو سنبھال نہیں پا رہی تھیں۔ پولیس کے مطابق خاتون مبینہ طور پر اس نتیجے پر پہنچ گئی تھیں کہ زندگی ختم کرنا ہی بہتر راستہ ہے۔
کلواکرتی پولیس اسٹیشن کے سب انسپکٹر مادھو ریڈی نے مقدمہ درج کر کے واقعے کی مکمل جانچ شروع کر دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تمام پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ واقعے کی اصل وجوہات سامنے آ سکیں۔
