Read in English  
       
Telangana Political Criticism

حیدرآباد ۔ تلنگانہ کے وزیر تُملّا ناگیشور راؤ نے بی آر ایس رہنماؤں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اقتدار کھونے کے بعد وہ مایوسی کا شکار ہو کر بیانات دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق، اپوزیشن مسلسل یہ دعویٰ دہرا رہی ہے کہ کانگریس نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے، تاہم یہ موقف حقیقت سے دور ہے۔

پس منظر میں، تُملّا ناگیشور راؤ نے کھمم میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سابق حکومت کے دوران بدعنوانی ہی اقتدار کے خاتمے کی بنیادی وجہ بنی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پمپ اور پائپ لائن منصوبوں میں کمیشن وصول کیے گئے، جس سے عوامی وسائل کا غلط استعمال ہوا۔ مزید برآں، انہوں نے کہا کہ 8000 کروڑ روپے مرکزی منظوری کے بغیر خرچ کیے گئے، لیکن اس کے باوجود ایک ایکڑ زمین تک آبپاشی نہیں پہنچ سکی۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایسی کارکردگی کے بعد بی آر ایس کس بنیاد پر دوبارہ اقتدار میں آنے کی امید رکھتی ہے۔ اسی دوران، ان بیانات نے ریاستی سیاست میں نئی بحث کو جنم دیا اور مختلف حلقوں میں ردعمل پیدا کیا۔

منصوبوں پر تنقید | Telangana Political Criticism

دریں اثنا، وزیر نے ٹی ہریش راؤ کو بھی نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ پارٹی میں اہمیت کم ہونے کے باعث کھل کر بیانات دے رہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ہریش راؤ نے ایک اجلاس قبضہ شدہ زمین پر منعقد کیا اور کالیشورم پروجیکٹ میں بدعنوانی میں ملوث رہے۔

مزید تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ آبی منصوبوں سے متعلق الزامات ریاستی سیاست کا اہم موضوع بن چکے ہیں۔ اسی طرح، مختلف جماعتیں ان منصوبوں کی کارکردگی کو اپنے اپنے نقطہ نظر سے پیش کر رہی ہیں۔

حکومت کی بحالی کی کوششیں | Telangana Political Criticism

دوسری جانب، تُملّا ناگیشور راؤ نے کہا کہ کانگریس حکومت سابق دور میں ہونے والے نقصانات کو درست کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیتاراما پروجیکٹ پہلے تعطل کا شکار تھا، تاہم اب وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی کی قیادت میں اسے مکمل کیا جا رہا ہے۔

لہٰذا، ان کے مطابق موجودہ حکومت ترقیاتی منصوبوں کو دوبارہ فعال کر کے ریاست کی بحالی کے لیے کام کر رہی ہے۔ آخر میں، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی مفاد کے لیے شفاف اور مؤثر حکمرانی ناگزیر ہے۔