حیدرآباد: حیدرآباد ٹریفک پولیس نے نشے میں گاڑی چلانے کے خلاف خصوصی مہم کے دوران 460 مقدمات درج کیے۔ یہ کارروائی 12 اور 13 دسمبر کو شہر بھر میں انجام دی گئی۔ پولیس کے مطابق اس مہم کا مقصد سڑکوں پر تحفظ کو مضبوط بنانا تھا۔
حکام نے بتایا کہ نشے کی حالت میں گاڑی چلانے والے افراد کو مختلف مقامات پر روکا گیا۔ ٹریفک اہلکاروں نے متعدد چیک پوائنٹس پر جانچ کی اور مختلف زمروں کی گاڑیوں میں خلاف ورزیاں نوٹ کیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ نشے میں ڈرائیونگ حادثات کی ایک بڑی وجہ بن رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ خلاف ورزیاں دو پہیہ گاڑی چلانے والوں کی جانب سے سامنے آئیں۔ اس دوران دو پہیہ گاڑیوں کے خلاف 350 مقدمات درج کیے گئے۔ اسی طرح تین پہیہ گاڑیوں کے 25 جبکہ چار پہیہ اور دیگر گاڑیوں کے 85 مقدمات سامنے آئے۔
دو پہیہ گاڑیاں سب سے آگے | Drunk Driving
ٹریفک پولیس حکام کے مطابق نشے میں ڈرائیونگ عوامی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بنی ہوئی ہے۔ اسی لیے نفاذی ٹیموں نے نمایاں چیکنگ اور سخت کارروائی پر توجہ دی۔ حکام نے واضح کیا کہ ایسی ڈرائیونگ نہ صرف خود ڈرائیور بلکہ پیدل چلنے والوں اور دیگر مسافروں کے لیے بھی خطرناک ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس مہم کے دوران زیرو ٹالرینس پالیسی اپنائی گئی۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی گئی تاکہ واضح پیغام دیا جا سکے۔ حکام کے مطابق اس سے سڑک حادثات میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔
مہم کا تسلسل | Drunk Driving
حیدرآباد ٹریفک پولیس نے بتایا کہ آئندہ بھی اس نوعیت کی خصوصی مہمات باقاعدگی سے جاری رہیں گی۔ اس کا مقصد شہر کی سڑکوں کو محفوظ بنانا اور حادثات کی شرح کم کرنا ہے۔ پولیس نے عوام سے تعاون کی اپیل کی۔
حکام نے مسافروں پر زور دیا کہ وہ ٹریفک قوانین کی مکمل پابندی کریں۔ ان کے مطابق ذمہ دارانہ ڈرائیونگ ہی قیمتی جانیں بچانے کا واحد مؤثر ذریعہ ہے۔
