Coal Scam
حیدرآباد ۔ تلنگانہ بی جے پی کے صدر این رام چندر راو نے مبینہ سنگارینی کول اسکام کی جامع تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کانگریس حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اس معاملے سے عوامی توجہ ہٹانے کے لیے بی جے پی رہنماؤں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ انہوں نے ہفتہ کے روز بی جے پی کے ریاستی دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔
رام چندر راو نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے مرکزی وزیر جی کشن ریڈی کے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کیے ہیں۔ ان کے مطابق یہ تنقید اس خدشے کے باعث کی جا رہی ہے کہ مبینہ کول اسکام سے متعلق حقائق منظر عام پر آ سکتے ہیں۔
تحقیقات اور سیاسی الزامات | Coal Scam
بی جے پی رہنما کے مطابق جی کشن ریڈی نے وزیر اعلیٰ کو خط لکھ کر مبینہ بے ضابطگیوں کی تفصیلی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی مکمل جانچ ضروری ہے تاکہ تمام حقائق عوام کے سامنے آ سکیں۔
مزید برآں رام چندر راو نے الزام لگایا کہ کانگریس حکومت اس مسئلے پر اٹھنے والے سوالات کا جواب دینے کے بجائے بی جے پی کے خلاف سیاسی حملوں میں مصروف ہے۔ ان کے مطابق حکومت کو الزامات کے بجائے شفاف تحقیقات پر توجہ دینی چاہیے۔
سنگارینی میں اختیار اور ذمہ داری | Coal Scam
رام چندر راو نے کہا کہ سنگارینی کولیریز کمپنی لمیٹڈ میں تلنگانہ حکومت کی 51 فیصد جبکہ مرکزی حکومت کی 49 فیصد شراکت داری ہے۔ تاہم ان کا مؤقف تھا کہ کمپنی کا انتظامی اور مالی کنٹرول ریاستی حکومت کے پاس ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے میں کمپنی سے متعلق معاملات پر ریاستی حکومت کو جوابدہی قبول کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق عوامی اداروں میں شفافیت اور احتساب کو یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
تعلیمی شعبے پر بھی سوالات | Coal Scam
پریس کانفرنس کے دوران رام چندر راو نے ریاست کے تعلیمی شعبے کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کئی سرکاری اسکول اب بھی کلاس رومز، بیت الخلا، فرنیچر اور درسی کتابوں جیسی بنیادی سہولتوں کی کمی کا شکار ہیں۔
انہوں نے سرکاری اسکولوں میں داخلوں میں اضافے کے دعووں پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بنیادی ڈھانچے کے مسائل اب تک حل نہیں کیے گئے۔ علاوہ ازیں انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تعلیم کے لیے مختص بجٹ میں اضافہ کیا جائے اور عوامی تعلیمی اداروں کو مضبوط بنایا جائے۔
رام چندر راو نے عثمانیہ یونیورسٹی کے لیے وعدہ کردہ ₹1,000 کروڑ کی رقم جاری کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی کے ہاسٹلوں کی حالت تشویشناک ہے اور اس جانب فوری توجہ دی جانی چاہیے۔
انہوں نے تعلیم کو ترجیحی شعبہ قرار دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ سے اپیل کی کہ ریاست بھر کے سرکاری اسکولوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کی بہتری کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
బొగ్గు కుంభకోణం నిజాలు బయటకు రాకుండా అణిచివేస్తూ, బీజేపీ నాయకులపై తప్పుడు ప్రచారం చేయడం రేవంత్ ప్రభుత్వానికి అలవాటుగా మారింది.
బొగ్గు కుంభకోణం బయటపడుతుందనే భయంతోనే సీఎం రేవంత్ రెడ్డి గారు కేంద్రమంత్రి కిషన్ రెడ్డి గారిపై నిరాధార విమర్శలకు దిగుతున్నారు.
ఈ బొగ్గు కుంభకోణంపై… pic.twitter.com/ASTkt12Vf1
— N Ramchander Rao (@N_RamchanderRao) June 20, 2026
